Bharat Express DD Free Dish

Politics

حالیہ برسوں میں بھارت اور سربیا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت میں منعقدہ "اے آئی امپیکٹ سمٹ" کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر ووچیچ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی تھی،

وزارت نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تین بھارتی شہریوں کی افسوسناک اور قابلِ گریز ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں شہری اور تجارتی جہازوں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں

اس کے علاوہ 15 جون کو پرائمری اساتذہ بھرتی گھوٹالے کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انہیں طلب کیا ہے، جبکہ 16 جون کو مبینہ دھمکی کے ایک الگ مقدمے میں بھی سی آئی ڈی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ان تمام قانونی کارروائیوں کے درمیان ہفتہ کی صبح ہونے والی اس اچانک چھاپہ مار کارروائی نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے

اپنے خلاف جاری تحقیقات کے حوالے سے ابھیشیک بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں انہیں مختلف معاملات میں پھنسانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن خواتین کی مکمل شمولیت کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق خواتین کا بااختیار ہونا صرف سماجی انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی تعمیر اور ترقی کی بنیادی شرط ہے۔

میناکشی نٹراجن نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تنازع کے حتمی تصفیے تک راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے اعلان پر عارضی روک لگا دی جائے۔ تاہم جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے اس مرحلے پر کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تفصیلی سماعت جمعہ کو کی جائے گی۔

باغی ارکان کے حوالے سے مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں، تب بھی انہیں حاصل کیا ہوگا؟ وہ صرف الگ نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ان کی حکومت نے ’’خدمت، بہتر حکمرانی اور غریبوں کی فلاح‘‘ کو اپنی پالیسیوں کا بنیادی ستون بنایا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل انڈیا، آتم نربھر بھارت، سوچھ بھارت مشن، آیوشمان بھارت، اجولا یوجنا اور پردھان منتری آواس یوجنا جیسی متعدد فلاحی اسکیموں کے فوائد ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچے ہیں۔

برسا منڈا کی پیدائش 15 نومبر 1875 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی صرف 25 سالہ زندگی میں ایسے تاریخی کارنامے انجام دیے جنہوں نے انہیں قبائلی سماج میں غیر معمولی مقام عطا کیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت اور ظالمانہ زمینداری نظام کے خلاف بغاوت کی قیادت کی اور قبائلی عوام کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے والی سرکاری ایجنسیوں نے مقررہ قانونی طریقہ کار اور ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ امریکی کمپنیوں پر اچانک اتنی بھاری اضافی لاگت ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس اقدام کا قانونی جواز کیا تھا۔