Bharat Express DD Free Dish

Political News

ہندوستان-روس "خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری" دنیا میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں سے مسلسل ہونے والی سربراہی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور کھلے مذاکرات کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہی ہیں۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان ہمیشہ بھارت کے حوالے سے مثبت مؤقف رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے متعدد بار بھارت سے مذاکرات کی کوشش کی اور بھارتی قیادت، خصوصاً بی جے پی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سمت میں قدم بڑھایا۔

دہلی پولیس، مرکزی ایجنسیاں اور SPG ہائی الرٹ پر ہیں۔ VIP روٹس کا بار بار ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں بھاری پولیس فورس تعینات ہے۔

کاشی تمل سنگمم کا یہ ایڈیشن 2 دسمبر سے 15 دسمبر 2025 تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام تمل ناڈو اور بنارس (اتر پردیش) کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تبادلے کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

وزیراعلیٰ بھجن لال شرما نے بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے بھی ملاقات کی اور انہیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے صحت کے میدان میں جاری جدید اصلاحات، طبی خدمات کی مضبوطی، اور مختلف عوامی بہبود اسکیموں کی پیش رفت پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا ایکس پر ویدمورتی دیوورت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا 19 سال کے ویدمورتی دیوورت نے جو کیا ہے، اسے آنے والی پیڑھیاں یاد رکھیں گی،

منگل (2 دسمبر) کی شروعات بھی کچھ مختلف نہ رہی۔ 11 بجے ایوان شروع ہوا لیکن اپوزیشن کے "Vote Chor SIR" کے نعرے لگتے ہی اسے پھر سے ملتوی کرنا پڑا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن کی شرطیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔

H1-B ویزا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: “کچھ لوگ، خاص طور پر دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے، اسے بند کرنے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ انتہائی برا فیصلہ ہوگا۔”

اکھلیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے پاس بڑے وسائل ہیں اور وہ ایک بڑی نوئیڈا کمپنی کو ہائر کر کے ووٹر لسٹ پر کام کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: 2024 میں جن بوتھوں پر بی جے پی ہاری، وہیں ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔

حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں ہے اور میڈیا رسائی محدود کر دی گئی ہے ۔سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔