Bharat Express DD Free Dish

Political Controversy

کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی گاڑی کے ڈرائیور پر لاپرواہی سے گاڑی چلا کر پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کا الزام

’’یہ جھوٹ ہے کہ تقسیم کے ذمے دار مسلمان ہیں۔ اُس وقت صرف 2-3 فیصد مسلمانوں کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔ جنہوں نے ملک چھوڑا وہ چھوڑ گئے، جو وفادار تھے وہ یہیں رہے۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این سی ای آر ٹی کے نصاب میں شمش الاسلام کی کتاب Muslims Against Partition شامل کی جائے۔

تقسیم ہند اور پاکستان کا قیام ناگزیر نہیں تھا، تین کردار نمایاں قرار: جناح، کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن، ہزاروں اموات، 1.5 کروڑ لوگوں کی بے دخلی، جنسی تشدد اور لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں – ماڈیول میں خوفناک مناظر درج

سنجے راؤت نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھن کھڑ کے اچانک استعفیٰ اور اس کے بعد سے ان کے منظرعام سے غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ کا غیر رسمی اور متنازعہ انداز ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں ایک طرف وہ اپنی ٹیم کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہیں ان کے الفاظ اکثر ان پر سیاسی تنقید کی شکل میں پلٹ آتے ہیں۔ کیرولین لیویٹ کے بارے میں ان کا بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے، جس نے تعریف سے زیادہ تنازع کو جنم دیا۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

ہماری حکومت کو جتنا کام کرنے سے روکا گیا، اس کے باوجود ہم نے دہلی میں بڑے کام کیے۔ میرے خیال میں تو مجھے گورننس اور ایڈمنسٹریشن پر نوبیل پرائز ملنا چاہیے کہ میں نے ایل جی کی موجودگی میں اتنے کام کر ڈالے

جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک پریس کانفرنس میں تھرور کے مضمون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے لیے ملک پہلے ہے، جبکہ کچھ افراد کے لیے شاید مودی پہلے اور پھر ملک آتا ہے۔

مئو صدر سے رکن اسمبلی عباس انصاری کو ضلع و سیشن عدالت نے نفرت انگیز تقریر (ہیٹ اسپیچ) کے معاملے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے انہیں 2 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ قیاس یہ لگایا جارہا ہے کہ ان کی رکنیت چلی جائے گی، کیا ہے اصل حقیقت اور کیا ہے مکمل کیس؟