Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان حالیہ ملاقات یوکرین جنگ کے پرامن حل کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام تھا۔

گزشتہ روز بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے رادھاکرشنن کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے این ڈی اے کا امیدوار قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لیا گیا۔ انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا۔

وزیراعلیٰ موہن یادو نے بتایا کہ ریاست میں وندے میٹرو کوچز بنانے والی فیکٹری کا آغاز ہو چکا ہے اور جلد ہی بھوپال میں میٹرو ٹرین کی سروس شروع ہونے والی ہے۔

آئندہ ماہ 9 ستمبرکو ہونے والا نائب صدرعہدے کا الیکشن این ڈی اے کی طرف سے راجناتھ سنگھ کی نگرانی میں ہوگا۔ این ڈی اے نے اتوار کے روز اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے ابھی تک کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

لال قلعہ کی فصیل سے پی ایم مودی نے بھارت کی شاندار وراثت اور موجودہ چیلنجز کو ایک ساتھ باندھتے ہوئے قومی اتحاد، خود انحصاری، اور اسٹریٹیجک عزم کو اجاگر کیا۔ یہ ان کا لگاتار 12واں یوم آزادی کا خطاب تھا – جس سے انہوں نے اندرا گاندھی کا ریکارڈ توڑ دیا – اور 103 منٹ کی لمبائی کے ساتھ سب سے طویل تقریر بن گئی۔

تیرنگا لہراتے لوگ، ڈھول نگاڑوں کی تھاپ اور "بھارت ماتا کی جے" کے نعروں نے اس تاریخی لمحے کو اور بھی خاص بنا دیا۔ شکلا کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔

نرملا سیتارمن کی پیدائش 18 اگست 1959 کو مدورائی، تمل ناڈو میں ہوئی۔ انہوں نے تروچیراپلی کے سیتا لکشمی راماسوامی کالج سے معاشیات میں گریجویشن اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے معاشیات میں پوسٹ گریجویشن کیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل مارچ 2024 میں وزیر اعظم مودی نے ملک کی پہلی انڈر واٹر میٹرو سروس کا افتتاح کیا تھا، جس میں انہوں نے ہوگلی ندی کے نیچے میٹرو میں سفر بھی کیا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ کا وسیع تجربہ اور علم ایوان بالا کے وقار میں اضافہ کرے گا اور نئی کامیابیاں حاصل کرے گا۔ اس فیصلے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے تمام اراکین کا شکریہ۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے رادھاکرشنن کی کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک بھی اپنے امیدوار کے نام پر غور کر رہا ہے اور اس کیلئے 18 اگست کو میٹنگ طلب کی گئی ہے۔