Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیراعظم مودی نے یہ بھی کہا ’’سنگھ پر کئی بار حملے ہوئے، سازشیں رچی گئیں، اور اسے مرکزی دھارے سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن سنگھ کا مقصد ہمیشہ ایک بھارت شریشٹھ بھارت رہا ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: ’’فلپائن میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا۔ میری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ اس مشکل وقت میں بھارت فلپائن کے ساتھ ہے۔‘‘

آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’دراندازوں سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ سوال ہماری اندرونی سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہے۔ اسی لیے میں نے لال قلعے سے ’ڈیموگرافک مشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘

وجے کمار ملہوترا کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 1999 کے لوک سبھا انتخابات میں منموہن سنگھ کو (وزیر اعظم بننے سے قبل) بھاری ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بھارتی سیاست کے اہم چہروں میں شامل وجے کمار ملہوترا نے 9ویں اور 14ویں لوک سبھا میں دہلی صدر اور جنوبی دہلی کی نمائندگی کی۔

پی ایم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ کے ذریعے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:"پروفیسر وجے کمار ملہوترا ایک غیر معمولی رہنما تھے، جنہیں عوامی مسائل کی گہری سمجھ حاصل تھی۔

غزہ میں جاری شدید تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک جامع 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف جنگ بندی کروانا ہے بلکہ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی واضح کرنا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ 1980 میں جب بی جے پی کی بنیاد رکھی گئی، تو وی کے ملہوترا کو دہلی بی جے پی کے پہلے صدر کی ذمہ داری دی گئی۔ آج دہلی بی جے پی کی جو طاقت ہے، وہ گزشتہ دہائیوں میں لاکھوں کارکنوں کی قربانی اور محنت کا نتیجہ ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، جدید سہولیات سے آراستہ یہ نیا دفتر دہلی میں بی جے پی کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے اور کارکنان و رہنماؤں کے لیے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ یہ عمارت جدید کمیونیکیشن سسٹمز، میٹنگ ہالز اور پارٹی پروگراموں کی ہم آہنگی کے لیے مخصوص دفاتر سے لیس ہے۔

اس کامیابی کے بعد سوریا کمار یادو نے ایک اور قابل تعریف اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹورنامنٹ فیس بھارتی فوج اور پہلگام دہشت گرد حملے کے متاثرہ خاندانوں کو عطیہ کریں گے۔

عہدے کے لحاظ سے رکن کے طور پر دھرمشیلا گپتا کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خاص مدعو ارکان کے طور پر ونود تاوڑے، دیپک پرکاش اور ناگیندر جی کے نام شامل ہیں۔