Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

من کی بات 22 ہندوستانی زبانوں اور 29 بولیوں کے ساتھ ساتھ 11 غیر ملکی زبانوں میں نشر کی جاتی ہے۔ ان میں فرانسیسی، چینی، انڈونیشی، تبتی، برمی، بلوچی، عربی، پشتو، فارسی، دری اور سواحلی شامل ہیں۔ من کی بات 500 سے زیادہ آل انڈیا ریڈیو کے نشریاتی مراکز سے نشر کی جاتی ہے۔

اجمیر شریف درگاہ کے دیوان کے جانشین سید نصیرالدین چشتی نے ملک کی مشترکہ ثقافت، گنگا-جمنی تہذیب اور سماجی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی تقریبات سماج کو جوڑنے کا ایک مضبوط اور مؤثر ذریعہ ہیں۔

مشہور تھنکٹینک فرانسس فوکویاما نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے تریپورہ اسمبلی کے اسپیکر بسوا بندھو سین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ کی ترقی کو فروغ دینے کی ان کی کوششوں اور متعدد سماجی خدمات کے تئیں ان کی وابستگی کے لیے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہماری حکومت ’زندگی کی سہولت‘ کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے اور نیچے دیا گیا تھریڈ اس بات کی مثال ہے کہ ہم اس سمت میں کس طرح کام کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں ہماری اصلاحاتی کوششیں مزید جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔

بہارمیں نتیش حکومت کی کابینہ توسیع کی تیاری تیزہوگئی ہیں۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں 12-11 نئے وزرا کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے حال ہی میں وزیراعظم مودی اورامت شاہ سے ملاقات کرکے اس حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا تھا۔

صدر مرمو نے کہا کہ سنتھالی زبان میں آئین کی دستیابی سے حقوق، فرائض اور آئینی اقدار عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہوں گی، جس سے قبائلی برادریاں مزید بااختیار بن سکیں گی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کا خواب تھا کہ قطار میں کھڑے آخری فرد تک تمام سہولیات پہنچیں۔ آج جب حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ ہر ضرورت مند تک پہنچایا جا رہا ہے تو انتودیہ کا وہ خواب حقیقت میں بدل رہا ہے۔

ویر بال دیوس کے تحت ملک بھر میں مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جن میں بہادری کے قصے سنانا، شاعری کی محفلیں، پوسٹر سازی اور مضمون نویسی کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں اسکولوں، بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز،

وزیر اعظم مودی نے مستقبل کے بڑے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2030 میں احمد آباد میں کامن ویلتھ گیمز منعقد ہوں گے، جہاں پوری دنیا کی نظریں بھارت پر ہوں گی۔ یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے سنہری موقع ہوگا۔ اس کے علاوہ، بھارت 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے بھی پوری طرح کوشاں ہے۔