Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اب 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب اگلا بڑا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کیا یہ واقعی ’اب یا کبھی نہیں‘ جیسی صورتحال ہے، کہا کہ موجودہ حالات بھارت کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے پاس نوجوان اور ہنر مند آبادی کی بڑی طاقت موجود ہے، جو مستقبل کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایک حالیہ انٹرویو میں ملک کی معیشت، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم موضوعات پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اب دنیا کے ساتھ اپنی شرائط پر تجارت کر رہا ہے۔

تیسرے سوال میں انہوں نے ’’اضافی مصنوعات‘‘ کی اصطلاح پر وضاحت مانگی اور پوچھا کہ اس میں کون کون سی فصلیں شامل ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں دالوں اور دیگر اجناس کو بھی امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کا دباؤ بڑھے گا؟

وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کُرناتک کے ویمگل میں ٹاٹا ایئر بس کی ایچ-125 ہیلی کاپٹر اسمبلی لائن کا ورچوئل افتتاح کریں گے۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی،

بنگلہ دیش کی سیاست میں اہم تبدیلی کے بعد، وزیراعظم نریندر مودی 17 فروری کو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے نئے صدر طارق رحمان کے حلف برداری کے موقع پر وہاں نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کی غیر حاضری میں بھارت کی نمائندگی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کریں گے، جو 17 فروری کو ڈھاکہ پہنچیں گے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھگوان شیو کے آشیرواد سے سب کا کلیان ہو اور ہمارا بھارت سمردھی کی چوٹی پر فائز ہو۔ انہوں نے ’ہر ہر مہادیو‘ کا نعرہ بھی تحریر کیا۔ وزیر اعظم کا یہ پیغام محض رسمی مبارکباد نہیں بلکہ اس میں سب کی بھلائی اور ایک خوشحال بھارت کا وژن نمایاں ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں رہنما “ہوری زون 2047 روڈ میپ” کے تحت دفاع، تجارت، توانائی اور انڈو پیسیفک خطے میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

راہل گاندھی نے سابق فوجیوں کے مسائل کو لے کر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کی تکالیف سن کر ان کا دل بے چین ہو گیا اور موجودہ حکومت کے فیصلوں نے لاکھوں سابق فوجیوں کے علاج اور وقار کو متاثر کیا ہے۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2019 کو جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مرکزی ریزرو پولیس فورس کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس میں 40 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی۔

وزیراعظم مودی نے آسام کے گوہاٹی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اقتدار سے باہر ہونے کے بعد کانگریس مزید زہریلی ہو گئی ہے، اس لیے آسام کے عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔