Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Iran US war speech: ایران-امریکہ کشیدگی پر آج پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کا اہم خطاب

موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جس نے عالمی شپنگ روٹس کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی تقریباً 47 فیصد ضرورت قطر سے پوری کرتا ہے، اور حالیہ حملوں کے بعد سپلائی میں خلل کے خدشات نے حکومت کی تشویش بڑھا دی ہے

نئی دہلی :مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی آج دوپہر 2 بجے لوک سبھا میں ایک اہم خطاب کریں گے، جس پر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ 28 فروری سے جاری ایران-امریکہ کشیدگی اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور ایسے میں ہندوستان کا مؤقف عالمی سیاست کی سمت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اپنے خطاب میں ملک کی توانائی سلامتی، خاص طور پر تیل اور گیس کی سپلائی پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ جنگ کے حوالے سے ہندوستان کا واضح اور مضبوط مؤقف بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کے روز وزیر اعظم نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکورٹی امور کی کابینہ کمیٹی کے ساتھ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔

موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جس نے عالمی شپنگ روٹس کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی تقریباً 47 فیصد ضرورت قطر سے پوری کرتا ہے، اور حالیہ حملوں کے بعد سپلائی میں خلل کے خدشات نے حکومت کی تشویش بڑھا دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ہونے والے اجلاس میں کھاد کے ممکنہ بحران پر بھی سنجیدہ غور کیا گیا، کیونکہ خریف فصل کا سیزن قریب ہے اور کھاد کی کمی براہِ راست زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتی ہے۔ حکومت اس سے قبل ایسنشل کموڈیٹیز ایکٹ نافذ کر کے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانے کی کوشش کر چکی ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ مشرقِ وسطیٰ میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 90 لاکھ بھارتی اس خطے میں رہتے ہیں، اور جنگی حالات کے باعث ان کی محفوظ واپسی اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے خطاب میں ایک خصوصی وزارتی گروپ (GoM) اور سیکریٹری سطح کے ایک مانیٹرنگ سیل کے قیام کا اعلان بھی کر سکتے ہیں، جو 24 گھنٹے اس بحران پر نظر رکھے گا۔بین الاقوامی سطح پر امریکہ سے لے کر خلیجی ممالک تک سب کی نظریں اس خطاب پر ہیں، کیونکہ “دنیا کے دوست” کے طور پر پہچانے جانے والے ہندوستان سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر سفارتی راستہ پیش کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read