Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعلیٰ نے یہ بات پروگریسو پنجاب انویسٹرز سمٹ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت مسلسل پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ریاست کے واجب الادا فنڈز روک کر ترقیاتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کے مطالبات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، جس سے ریاست کے زرعی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔

مرکزی حکومت کی اہم اسکیم وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت مہاراشٹر کے وسئی-ویرار علاقے میں شمسی توانائی کے استعمال کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اب شہری بڑی تعداد میں اپنے گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہو رہی ہے بلکہ متبادل توانائی کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں برسوں سے ایک ہی طرز کی حکومتیں آتی رہی ہیں۔ پہلے کانگریس کی حکومت رہی، اس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا اور اب آل انڈیا ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان تمام ادوار میں ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور ریاست بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں پیچھے رہ گئی۔

امریکی دائیں بازو کی سرگرم کارکن اور ٹرمپ کی حامی لورا لومر نے اسٹیج سے ٹرمپ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا، ”میں نے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ بھارت کے لوگوں کو بتائیں کہ میں بھارت سے محبت کرتا ہوں، مجھے مودی سے محبت ہے اور میں بھارتی عوام کا بے حد احترام کرتا ہوں“۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں مبینہ طور پر ”مہاجنگل راج“ قائم کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں قانون کی حکمرانی بحال ہوگی اور جو بھی قانون توڑے گا یا ظلم کرے گا اسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔

حکومت کے مطابق یہ اضافی امداد سال 2025 کے دوران آنے والی مختلف قدرتی آفات جیسے سیلاب، اچانک آنے والے سیلاب، بادل پھٹنے کے واقعات، لینڈ سلائیڈنگ اور سمندری طوفان ’مونتھا‘ سے متاثرہ علاقوں میں راحت، بازآبادکاری اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حکومت کھیتوں کو سولر پمپ سے جوڑنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ کسانوں کا ڈیزل پر خرچ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگ یا بحران پیدا ہوتا تھا تو اس کا اثر بھارتی کسانوں پر پڑتا تھا،

آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کچھ بین الاقوامی مبصرین کی اس تنقید کو بھی مکمل طور پر مسترد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے تحت بھارت کم جمہوری ہو گیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس عالمی بحران نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ کسی بھی ملک کا خود انحصار ہونا کتنا ضروری ہے۔ اسی لیے پچھلے برسوں میں ہم نے بھارت کو انرجی سیکٹرز میں خود انحصار بنانے کے لیے جامع انداز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ہم اس عالمی بحران پر بھی قابو پا لیں گے۔