Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Japan Visit

پی ایم مودی نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں نے بھارت میں 40 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، اور صرف گزشتہ دو سالوں میں 13 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

پی ایم مودی نے مزید لکھا:"بھارت اور جاپان کے گہرے اقتصادی تعلقات پر بات کی، اور ان شعبوں کی نشاندہی بھی کی جہاں آنے والے برسوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے —

اپنے خطاب میں مودی نے کہا:"آٹو سیکٹر میں ہماری شراکت داری کامیاب رہی ہے۔ ہم یہی جادو بیٹریز، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹر، شپ بلڈنگ اور نیوکلیئر انرجی میں بھی دہرا سکتے ہیں۔ ہم مل کر گلوبل ساؤتھ، خاص طور پر افریقہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پی ایم مودی اس دورے کے دوران جاپان میں منعقد ہونے والے شراکت داری اجلاس (Summit) میں شرکت کریں گے، جو 29 اور 30 اگست کو ٹوکیو میں منعقد ہو رہا ہے۔ روانگی سے قبل پی ایم مودی نے اپنے بیان میں کہا:"میرا یہ دورہ بھارت کے مفادات کو فروغ دے گا، اور عالمی امن و باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔"

یہ منظر نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بھارت اور جاپان کے دیرینہ تعلقات کی گہرائی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ایم  مودی نے ہوٹل میں موجود بھارتی نژاد افراد سے ملاقات کی، ان کا حال احوال دریافت کیا اور بھارت کے عالمی کردار پر بات چیت کی۔

وزیراعظم مودی جاپان کے دورے کے دوران ایک بزنس لیڈرز فورم میں بھی شرکت کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے بڑے صنعتی رہنما شامل ہوں گے۔ یہ ملاقاتیں تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے اہم قرار دی گئی ہیں۔

پی ایم مودی کے اس جاپان دورے کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان بھارت اور جاپان کے مابین خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کا جائزہ لیں گے۔

پی ایم مودی کے جاپان دورے کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیاں 100 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کریں گی۔