Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Address

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے ریلوے کے تین بڑے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 23,437 کروڑ روپے ہے۔ وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف ملک کے انفراسٹرکچر کو مضبوطی ملے گی بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی رفتار حاصل ہوگی۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔

فرانس کے شہر نیس میں ایک شاندار ‘ڈیپ ٹیکنالوجی’ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی پروگرام کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مشترکہ طور پر کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کی نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ملک میں بینکوں کا مجموعی بقایا قرض 212.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 29 لاکھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عوام اور کاروباری طبقے کی بڑھتی مالی ضروریات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر غیر معمولی انتخابی مہم چلائی، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ پارٹی نے بڑے پیمانے پر ریلیوں، روڈ شوز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور انتخابی منظرنامے کو یکسر بدلنے کی کوشش کی۔