Lok Sabha Monsoon Session: کلیان بنرجی کو معطل کرنے کی تحریک لوک سبھا میں منظور، خواتین ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مبینہ نازیبا رویے اور نامناسب زبان کے استعمال پر ہوئی کارروائی
کاکولی گھوش دستیدار نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بھی کلیان بنرجی کو ایوان سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مبینہ طور پر بار بار زبانی بدسلوکی، خواتین مخالف تبصروں اور نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔
No Debate Until Education Minister Resigns: ’’وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک کوئی بحث نہیں ہوگی‘‘ راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن کا سخت احتجاج
آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔
Where did that 56-inch chest: ’وہ 56 انچ کا سینہ کہاں گیا؟ ملکارجن کھڑگے نے نیٹ، رام مندر ٹرسٹ اور ’طنزیہ تبصروں‘ پر وزیراعظم مودی کو گھیرا
کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘
Parliament’s Monsoon Session: ’’ہر آواز کو موقع اور ہر خیال کو احترام ملنا چاہیے، یہی پارلیمنٹ کا کردار ہے‘‘ مانسون اجلاس سے قبل وزیر اعظم نے بامعنی بحث ومباحثے پر دیا زور
وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔
PM Modi likely to address media tomorrow: وزیراعظم مودی مانسون اجلاس سے قبل کل میڈیا سے کرسکتے ہیں خطاب، 20 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس
حکومت آئندہ مانسون اجلاس میں ’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کر سکتی ہے۔ اس بل کے تحت کسی تنظیم کا ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ ختم ہونے، تجدید نہ ہونے یا حکومت کی جانب سے تجدید سے انکار کی صورت میں منسوخ ہو جائے گا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت غیر ملکی عطیات اور ان سے حاصل ہونے والے اثاثوں کے عارضی اور مستقل طور پر سرکاری تحویل میں لینے، نگرانی، انتظام اور تصفیے کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی قائم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام
مرکزی حکومت نے لوک سبھا کی سیٹوں کوبڑھا کر 850 کرنے کی تجویزپیش کی ہے۔ اس میں ریاست کے لئے 815 سیٹوں اورمرکزکے زیرانتظام ریاستوں کے لئے 35 سیٹیں رکھی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔
PM, Ministers, UT CMs To Lose Post If Arrested On Serious Charges: جیل جانے پر جائے گی کرسی، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بھی چھوڑنا ہوگا عہدہ، امت شاہ آج پیش کریں گے نیا بل
بل کے مطابق:"اگر کوئی وزیر اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کسی قانون کے تحت جرم کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے اور 30 دن کی مدت تک حراست میں رہتا ہے، اور اس جرم کی سزا 5 سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے،
Manoj Tiwari Joins Parliament with Blisters from Kanwar Yatra: کانوڑ یاترا کے بعد پیروں میں چھالوں کے باوجود عوام کے تئیں اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹے منوج تیواری، تکلیف کے باوجود پہنچے پارلیمنٹ
منوج تیواری نے سلطان گنج سے بابا بیدیا ناتھ دھام تک پیدل کانوڑ یاترا کی۔ کچھ فاصلے کے لیے گوڈا کے ایم پی نشی کانت دوبے بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔
Lok Sabha Speaker holds all-party meet: لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کی ایک آل پارٹی میٹنگ، اراکین پارلیمنٹ سے کہا-چلنے دیں ایوان کی کارروائی
اس سے قبل آج صبح راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا کا اجلاس اب پیر کو صبح 11 بجے جب کہ لوک سبھا دوپہر 2 بجے دوبارہ ہوگا۔
Parliament adjourned: ایس آئی آر پر اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان پارلیمنٹ کارروائی جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی تبھی آگے بڑھے گی جب حکومت بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرِثانی کے معاملے پر جواب دے گی۔





