Bharat Express DD Free Dish

Palestinian

وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو کرسی پر باندھا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں جبکہ اس کا چہرہ بھی ڈھانپا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص آگے بڑھتا ہے اور ایک سوئچ دباتا ہے، جس کے بعد کرسی پر بیٹھا شخص شدید تکلیف میں تڑپنے لگتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو بار بار بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں اور آخرکار وہ بے جان ہو جاتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں طویل خونریزی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو ایک ’مثبت اور امید افزا قدم ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں اصولی اور فعال کردار ادا کرے۔

ان جیلوں میں قیدیوں کی خراب حالت کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز کا دورہ کیا اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کیا۔ ان رپورٹس میں قیدیوں کو ناکافی خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی، گندگی اور تشدد جیسے مسائل درج کیے گئے ہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے جھنڈے، پوسٹراوربینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر ’فلسطین آزاد ہو‘، ’غزہ زندہ ہے‘، اور’ظلم کے خلاف ہم ایک ہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مارچ کے آخری مرحلے میں مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کر یکجہتی کا پیغام دیا۔

اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے مصر کی نئی تجویز پر جواب دینے کے لیے مہلت طلب کی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی سے حماس کے ہتھیار لیے جانے کے واسطے ٹائم ٹیبل وضع کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے باعث غزہ میں شدید سردی میں خیمے میں رہنے پر مجبور تین ہفتے کی بچی جاں بحق ہو گئی۔

غزہ میں موسم سرما شروع ہو چکا ہے اور اسرائیل کے ساتھ 14 ماہ سے جاری جنگ سے بے گھر ہونے والے تقریباً 20 لاکھ افراد میں سے بہت سے لوگ سردی اور بارش سے خود کو بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

امریکہ کا اسرائیل سے کہنا ہے کہ ویسٹ بینک میں تشدد میں شامل لوگوں کی جوابدہی طے ہو اور ساتھ ہی تشدد کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ نئی پابندی فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں شامل اسرائیلیوں پر راست اثرکریں گے۔

رپورٹ میں 7 اکتوبر کو ہونے والے تشدد اور گزشتہ سال کے اختتام کے درمیان کے وقت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ تنازعہ کے دوران دونوں فریقوں کی جانب سے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور جرائم کی وسیع رینج کو نمایاں کرتا ہے۔

بشنیل نے اس المناک واقعے کی ویڈیو کو ٹویچ پر لائیو اسٹریم کیا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر اسے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جاتے ہوئے اور خود پر لکوڈ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔