Bharat Express DD Free Dish

One Nation

وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کو شارٹ کٹ کی ذہنیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر لکھے جانے والے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ پل استعمال کرنے کے بجائے پٹری عبور کرکے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں، جب کہ وہاں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’شارٹ کٹ آپ کی زندگی مختصر کر سکتا ہے۔‘‘مودی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ شارٹ کٹ کی سوچ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پسند کے عظیم شخصیات کی سوانح عمری ضرور پڑھنی چاہیے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔

یہ اصلاح صرف ایک معمولی تبدیلی نہیں بلکہ جی ایس ٹی نظام کی از سرِ نو تشکیل ہے — جہاں اسٹرکجر، مقصد اور رسائی کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پارٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جو لوگ وہاں موجود نہیں تھے انہوں نے پارٹی کو پہلے سے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے اپنی غیر موجودگی کی اطلاع دی تھی یا کسی اور وجہ سے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، "گزشتہ 10 سال کا عرصہ ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بے مثال کامیابیوں سے بھرا ہوا ہے۔ آج حکومت کے ہر کام اور ہر مشن میں قومی اتحاد کا عزم نظر آتا ہے۔"

رام ناتھ کووند کی صدارت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی نے راشٹرپتی بھون میں آج صدر ہند دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ یہ رپورٹ کل 18,626 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ رپورٹ 2 ستمبر 2023 کو ماہرین کے ساتھ اس کی تشکیل اور 191 دن کی تحقیق کے بعد پیش کی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں ریاستی اسمبلیوں سے نمٹا جا سکتا ہے، اس کے لیے اسمبلیوں کی مدت میں چند ماہ کی کمی کرنا ہو گی جیسے تین یا چھ ماہ۔ مزید برآں، اگر عدم اعتماد کی وجہ سے کوئی حکومت گر جاتی ہے یا ہنگ ہاؤس ہوتا ہے، تو کمیشن مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ "یونٹی گورنمنٹ" کے قیام کی سفارش کرے گا۔

امیت شاہ نے کہا، "میں امید کرتا ہوں کہ 'ایک قوم، ایک انتخاب' کمیٹی کی رپورٹ مارچ کے آغاز تک سامنے آجائے گی۔ یہ آخر میں لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ 'ایک قوم، ایک انتخاب' چاہتے ہیں،" امت شاہ نے کہا۔

وزیر خزانہ سیتا رمن نے اس سوال کا کوئی سیدھا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اگر بالواسطہ ٹیکس کے لیے بھی ون نیشن ون ٹیکس لاگو کیا جا سکتا ہے تو ڈائریکٹ ٹیکس کے لیے کیوں نہیں؟