Bharat Express DD Free Dish

News

سامنے سے آ رہی ٹریکٹر ٹرالی سے اس کی زوردار ٹکر ہو گئی۔ ٹکر کے نتیجے میں لوڈنگ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار کئی افراد بری طرح پھنس گئے، جنہیں مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے نکالا گیا۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ کاشی تمل سنگم کا چوتھا ایڈیشن 2 دسمبر 2025 کو شروع ہوا، جس کا موضوع ’’تمل کارکلم – لرن تمل‘‘ رکھا گیا۔ اس کے ذریعے کاشی اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو خوبصورت تمل زبان سیکھنے کا نادر موقع ملا

بھارت میں آرمی ڈے ہر سال 15 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن بھارتی فوجی تاریخ کے ایک اہم واقعے سے جڑا ہوا ہے۔ سال 1949 میں اسی دن فیلڈ مارشل کے  ایم  کریپا نے بھارتی فوج کے پہلے ہندوستانی کمانڈر اِن چیف کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘

1966 میں بال ٹھاکرے نے شیوسینا کی بنیاد رکھی تھی اور صرف دو سال بعد، 1968 میں ہی پارٹی نے بی ایم سی انتخابات میں 42 نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد شیوسینا نے لگاتار اپنی گرفت مضبوط کی اور ممبئی کی سیاست میں گہرا اثرقائم رکھا۔

تصاویر اور ویڈیوزمیں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ امت شاہ کارکنوں کے درمیان نہایت جوش و خروش کے ساتھ پتنگ اڑا رہے ہیں۔ اسی دوران ایک دلچسپ منظر بھی دیکھنے کو ملا، جب آسمان میں پینچ لڑاتے ہوئے وزیرِ داخلہ کی پتنگ کٹ گئی اور مانجھا نیچے آ گرا

سوشل میڈیا پر حادثے کی کئی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جن میں جائے وقوعہ پر افراتفری، دھواں، تباہ شدہ ڈبے اور امدادی ٹیموں کی سرگرمیاں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اتنا شدید تھا کہ ٹکر کی آواز دور تک سنائی دی اور مسافر اپنی جان بچانے کے لیے چیختے چلاتے نظر آئے۔

حادثے میں کار میں سوارتین دیگرافراد شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ کارمیں کل6 افراد سوارتھے۔ یہ سب لوگ داونگیرے ضلع کے چنناگیری میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے گھرواپس لوٹ رہے تھے۔

اس واقعے میں سب سے اطمینان بخش بات یہ رہی کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ آگ لگنے کے وقت متعلقہ کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔ رہائش گاہ میں موجود دیگر افراد بھی مکمل طور پر محفوظ بتائے جا رہے ہیں۔

رضا پہلوی نے الزام لگایا کہ حالیہ پرتشدد کارروائیوں اور مبینہ قتلِ عام کے بعد عوام اور موجودہ حکومت کے درمیان “خون کا ساگر” بہہ چکا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 2400 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے یہ بھی کہا کہ وہ ان افراد کے نام اور تفصیلات محفوظ کریں جو مبینہ جرائم میں ملوث ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جا سکے۔