Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak

NEET پرچہ لیک معاملے کو لے کر ملک بھر میں طلبہ کا غصہ مسلسل سامنے آ رہا ہے۔ دہلی کے جنتر منتر سے لے کر ملک کے کئی شہروں تک طلبہ اور نوجوان احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ممبئی میں بھی طلبہ نے سڑکوں پر اتر کر اپنی آواز بلند کی۔

نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کے درمیان مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی تقریباً تین دہائیاں پرانی طلبہ تحریک ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ مظاہرین 1997 کے اس واقعے کا حوالہ دے رہے ہیں، جب دھرمیندر پردھان خود مبینہ پیپر لیک کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کا حصہ بنے تھے۔

سی جے پی کے احتجاج اور پولیس کارروائی کو لے کر سیاسی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ 15 مئی کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جو بعد میں میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی کارکن بن کر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن حکومت بڑے صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیتی ہے، جبکہ طلبہ کو انصاف نہیں ملتا۔ ان کے مطابق بار بار امتحانات کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، اس لیے نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج غیر جمہوری نہیں بلکہ طلبہ اور اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے،

کرن رجیجو نے بتایا کہ وزیر اعظم نے وکرم-1 راکٹ کے کامیاب لانچ پر اسکائی روٹ ایرو اسپیس کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بھارت کے نوجوان مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کی توجہ نوجوانوں اور ان کے روشن مستقبل پر مرکوز رہے گی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کی میٹنگ مثبت رہی، ،

راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے نے نیٹ (NEET) پرچہ لیک، جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور مبینہ لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا۔ ایوان میں ہنگامے کے بعد کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔

22 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک نے انشن ختم کرنے کے لیے حکومت کے سامنے تین بڑی شرائط رکھ دیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام، پرچہ لیک کے معاملات، اراکینِ پارلیمنٹ کی یقین دہانیوں اور صفدرجنگ اسپتال میں اپنی مبینہ حراست کے حوالے سے اہم بیان دیا۔

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔

 دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔