Bharat Express DD Free Dish

NDA Alliance

 کشن گنج میں جلسہ کے دوران سابق راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ اگرمسلمانوں نے نتیش کمارکوووٹ نہیں دیا تووہ غدارکہلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں نے تیرکا بٹن دبایا تووہ گنہگارہوسکتے ہیں، لیکن غدارنہیں۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں ووٹنگ کے بعد اب باری ایگزٹ پول کی ہے۔ مہاراشٹراور جھارکھنڈ میں دو طرح کے ایگزٹ پول دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ ایگزٹ پول میں دونوں ریاستوں میں بی جے پی الائنس کی حکومت بننے جا رہی ہے، جبکہ کچھ ایگزٹ پول میں انڈیا الائنس کی حکومت بن سکتی ہے۔

جمئی سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ارون بھارتی نے میڈیا سے کہا تھا کہ این ڈی اے سے ہمارا الائنس صرف بہارالیکشن اورلوک سبھا الیکشن سے متعلق ہے۔

مہاراشٹرمیں اسی سال اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ اس سے پہلے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق میٹنگوں کا دورجاری ہے۔ وہیں اجیت پوارنے کہا ہے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق وہ دوبارہ میٹنگ کریں گے، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ کون کس سیٹ سے الیکشن لڑے گا۔

شیوسینا لیڈرکے بیان پربی جے پی کے وزیررویندر چوہان نے کہا کہ رام داس کدم ایک سینئرلیڈر ہیں اوراس طرح کی زبان ان کو زیب نہیں دیتی۔

کئی ریاستوں میں ہوئے اسمبلی الیکشن کے نتائج آج سامنے آگئے ہیں۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد اسمبلی ضمنی الیکشن میں بھی این ڈی اے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ 13 میں سے محض 2 سیٹوں پر ہی این ڈی اے کو کامیابی ملی۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس سیٹ سے کسے جیت ملی۔

کبھی کوسی کے علاقے میں نارتھ لائبریشن آرمی چلانے والے شنکرسنگھ نے بہارکے سبھی سیاسی شخصیات کوہراتے ہوئے روپولی اسمبلی الیکشن کا ضمنی الیکشن جیت لیا ہے۔ روپولی میں آرجے ڈی اور جے ڈی یو دونوں نے گنگوتا ذات کے امیدواریعنی پسماندہ طبقے سے امیدواراتارا تھا۔

مہاراشٹر کے ایم ایل سی الیکشن میں پہلے سے ہی خدشہ ظاہرکیا جا رہا تھا کہ کسی نہ کسی کا کھیل بگڑ سکتا ہے۔ اب جب نتیجے آگئے ہیں توب سے بڑا جھٹکا شرد پوارکولگا ہے۔

اگر نتیش اور نائیڈو دونوں بی جے پی کو چھوڑ دیتے ہیں تو این ڈی اے اکثریت کا ہندسہ عبور نہیں کر پائے گا۔ پھر کیا ہوگا؟ پھر سیاست ہوگی، جو اس ملک کی جمہوریت کو مزید خوبصورت بنا دے گی۔ کیونکہ پھر وہ چھوٹی پارٹیاں کارآمد ہوں گی جو کسی کے ساتھ نہیں ہے۔

کانگریس کی قیادت میں انڈیااتحاد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی  ہے۔ اب تک کے رجحانات میں کانگریس 98 سیٹوں پر، سماج وادی پارٹی 34 سیٹوں پر، ڈی ایم کے 20 سیٹوں پر، شیوسینا ادھو دھڑا 11 سیٹوں پر، این سی پی پوار دھڑا 8 سیٹوں پر، سی پی آئی 5 سیٹوں پر اور آر جے ڈی چار سیٹوں پر آگے ہے۔