New CISF Headquarters: وزیرداخلہ امت شاہ کل نئی دہلی میں سی آئی ایس ایف کے نئے ہیڈکوارٹر کا رکھیں گے سنگِ بنیاد
نئے ہیڈکوارٹر میں جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ سی آئی ایس ایف کو ایک مربوط اور جدید طرز کا مرکزی دفتر میسر آسکے۔ سی آئی ایس ایف ملک کی اہم مرکزی مسلح پولیس فورسز میں شامل ہے، جو ہوائی اڈوں، اہم صنعتی اداروں اور حساس تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔
Maritime Security: سمندری طاقت کے بغیر کوئی ملک عالمی قوت نہیں بن سکتا، امن کے تحفظ کے لیے طاقت ضروری: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے کہا کہ آتم نربھر بھارت، محفوظ بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو مضبوط بنانے میں یہ جہاز اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون، رابطے اور ترقی کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاعی طاقت ضروری ہے۔
Chief of the Army Staff: لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ بھارت کے نئے آرمی چیف مقرر، 30 جون کو سنبھالیں گے عہدہ
لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ کو بھارتی فوج کی جدیدکاری اور مستقبل کی جنگی صلاحیتوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور کیپبلیٹی ڈیولپمنٹ سے متعلق اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید جنگی ضروریات، نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور طویل مدتی فورس اسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
Land Port Management System: وزیرداخلہ امت شاہ نے لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم ’’ونیمئے‘‘ کا کیا افتتاح، تجارت اور سرحدی سلامتی میں اہم کردار پر زور
یہ جدید ڈیجیٹل نظام تمام لینڈ پورٹس کی سرگرمیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لائے گا اور لاجسٹکس و ضابطہ جاتی معلومات کے محفوظ اور حقیقی وقت میں تبادلے کو یقینی بنائے گا۔ اس کے ذریعے لینڈ پورٹس کو ہوائی اڈوں اور سمندری بندرگاہوں میں رائج جدید ڈیجیٹل نظاموں کے مساوی بنایا جائے گا۔
Iranian Ambassador Statement: ایران امن اور سفارت کاری کا خواہاں، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ایرانی سفیر
امریکہ-ایران کشیدگی کے معاملے پر ایرانی سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ایران نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مذاکرات اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔
Review Security Preparedness: وزیرداخلہ امت شاہ کا راجستھان، گجرات، تریپورہ اور مغربی بنگال کا دورہ، سرحدی سکیورٹی تیاریوں کا لیں گے جائزہ
ذرائع کے مطابق یہ دورہ سرحدی سکیورٹی کو جدید بنانے، نگرانی کے نظام کو بہتر کرنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور فورسز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ زمینی سطح پر تعینات اہلکاروں سے براہ راست رابطہ پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
Bengaluru Security Alert: وزیراعظم مودی کے قافلے کے راستے سے جیلیٹن اسٹکس کی برآمدگی کے بعد تحقیق کے لیے بنگلورو پہنچی این آئی اے
واقعے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے این آئی اے کی ٹیم کو بھی جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے تاکہ مقامی پولیس کے ساتھ مل کر معاملے کی جانچ کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جیلیٹن اسٹکس کس نے وہاں رکھیں اور آیا گرفتار شخص کا اس سے کوئی براہِ راست تعلق ہے یا نہیں۔
Agni missile with MIRV system: بھارت نے ایم آئی آر وی نظام سے لیس اگنی میزائل کا کیا کامیاب تجربہ، ایک ہی میزائل سے کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت
اس کامیاب تجربے کے ساتھ ہندوستان نے ایک بار پھر یہ صلاحیت ظاہر کی کہ ایک ہی میزائل نظام کے ذریعے کئی اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیاب تجربے پر ڈی آر ڈی او، ہندوستانی فوج اور دفاعی صنعت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر دفاعی تیاریوں میں غیرمعمولی اضافہ کرے گی۔
Operation Sindoor: آپریشن سندور کی پہلی برسی پر وزیراعظم مودی نے ایکس کی ڈی پی تبدیل کی، پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ’آپریشن سندور‘ کو خراج
آپریشن سندور، پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے جواب میں بھارت نے سخت فوجی کارروائی کی تھی۔ بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
Operation Sindoor: ’’آپریشن سندور دشمنوں کو بھارت کی ناقابل شکست طاقت کی یاد دلاتا رہے گا‘‘ امت شاہ کا آپریشن سندور کی پہلی برسی پر مسلح افواج کو خراج تحسین
ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





