Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

بھارت بین الاقوامی فورمز پر مسلسل ضبط و تحمل، مکالمے اور پرامن حل کی اپیل کرتا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر بھارت اور اردن کے درمیان روایتی طور پر مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی نے خطے کو سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں تازہ حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد بھارت کی حکومت نے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری تنازعہ اگر طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت اور بھارتی روپے پر دباؤ معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اس فوجی تصادم میں ایک جانب امریکہ اور اسرائیل ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی افواج اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث نہ صرف فضائی سفر متاثر ہوا ہے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے میں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، جوہری معاہدے پر پیش رفت کے اشارے، یورینیم افزودگی اور پابندیوں پر سخت اختلاف برقرار۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

غزہ پٹی میں دو سال سے جاری جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔ مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے نے امیدیں بڑھا دی ہیں، لیکن کئی اہم امور پر معاہدہ اب بھی غیر واضح ہے۔