Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

وزیراعظم میلونی کا غزہ میں صحافیوں کی تازہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار، عالمی برادری سے جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور

اسرائیل کے ذریعہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتہ جنگ بندی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ 27 جون کو ٹرمپ نے میڈیا سے کہا تھا کہ ’’ہم غزہ پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہ راست حملے کر چکی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن اسرائیل کے اس نئے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمنی کی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے "ایکس" (X) پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ "اسرائیل سے واپس آنے والی تیسری پرواز میں شامل 268 بھارتی شہریوں کا استقبال وزیر مملکت ڈاکٹر ایل. مرگن نے کیا۔ شَرم الشیخ، مصر سے IAF کا C-17 طیارہ 24 جون کو صبح 11 بجے دہلی پہنچا۔"

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے۔ دنیا کی تیل کی نقل و حمل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی سپلائی متاثر ہوگی اور قیمتیں بڑھیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس اقدام سے قبل اپنے اختیارات کا بغور جائزہ لے گا، کیونکہ اس سے نہ صرف اس کے دشمن بلکہ اس کے اتحادی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو بغیر کسی شرط کے فوری سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ: "ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہیں، فی الحال ہم حملہ نہیں کریں گے، لیکن ہمارا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔"

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہندوستان کی اقوام متحدہ میں غزہ جنگ بندی قرارداد پر غیرجانبداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے

"اسرائیل کی نیت بالکل واضح ہے کہ جو بھی ملک اس کی دھونس کے خلاف کھڑا ہو، اسے تباہ کر دو — لیکن یہ سب کچھ امریکہ کی کھلی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔"

بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کی مرضی سے واپسی کی منظوری دی۔ عراق سے عملے کو ہٹانے کے پیچھے سیکورٹی خدشات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔