Bharat Express DD Free Dish

Mansukh Mandaviya

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی حیرت انگیز اور غیر معمولی صلاحیتوں سے ہندوستانی ہاکی کو عالمی سطح پر نئی بلندیوں تک پہنچانے والے عظیم ہاکی کھلاڑی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پروگرام کا بنیادی مقصد ابھرتے ہوئے نوجوانوں سے وزیر اعظم کی براہ راست بات چیت کرانا ہے، ساتھ ہی 2036 اولمپکس کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی تیاری کے سلسلے میں ایک جامع روڈمیپ تیار کرنا بھی ہے۔

یکم جون 1972 کو گجرات کے ضلع بھاونگر کے گاؤں ہنوت میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر منسکھ مانڈویا کا سیاسی سفر جدوجہد اور محنت کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز طلبہ سیاست سے کیا اور بتدریج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم قومی لیڈروں  میں شمار ہونے لگے۔

چین کے شہر شنگھائی میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں بھارت کی چوتھی سیڈ ٹیم نے میزبان چین کی دوسری سیڈ ٹیم کو سنسنی خیز شوٹ آف میں 28-26 سے شکست دی۔ مقررہ چار سیٹس کے اختتام پر مقابلہ 4-4 سے برابر تھا، جس کے بعد فیصلہ شوٹ آف کے ذریعے ہوا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت جلد ہی دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم مودی نے صرف نعرہ نہیں دیا بلکہ اس کے لیے واضح روڈ میپ بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی بھی ترقی یافتہ بھارت کی بات کرتے تھے، لیکن وہ اس کے لیے واضح حکمت عملی پیش نہیں کر سکے۔

بھارت کی ترقی کے سفر میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھانے کی ایک بڑی پہل کے تحت دہلی کے ’بھارت منڈپم‘ میں ’وِکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘ (وی بی وائی ایل ڈی 2026) کا دوسرا ایڈیشن جاری ہے۔ اس پروگرام کا اہتمام محکمہ امورِ نوجوانان مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ کی قیادت میں کر رہا ہے۔

پی ایم مودی نے راجگیر میں اس شاندار ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے بہار حکومت اور وہاں کے عوام کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا: میں بہار حکومت اور عوام کی بھی ستائش کرنا چاہتا ہوں جن کی کوششوں سے راجگیر اس شاندار ایونٹ کی میزبانی کر سکا اور ایک فعال کھیلوں کے مرکز کے طور پر ابھرا۔

ہمارے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں، جو خود انحصار ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایشور انہیں لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرمائے۔"

یہ تعاون ٹکنالوجی کو روزگار کی خدمات کے ساتھ مربوط کرنے کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد ہندوستان کے لیبر ایکو سسٹم کو زیادہ موثر، قابل رسائی اور جامع بنانا ہے۔

زراعت کے شعبے کے بارے میں منسکھ منڈاویہ نے کہا کہ یو پی اے کے دور میں 2004 سے 2014 کے درمیان روزگار میں 16 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جب کہ این ڈی اے کے دور میں 2014 سے 2023 کے درمیان اس میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔