Bharat Express DD Free Dish

Malayalam Film Industry

ملیالم فلمی دنیا سے ایک انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ ملیالم سنیما کے ممتاز اداکار، نامور مصنف اور فلم ساز سری نواسن 69 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے ہفتہ کی صبح کوچی کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پوری ساؤتھ فلم انڈسٹری، فنکار برادری اور لاکھوں مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق نواس کی موت کی وجہ دل کا دورہ سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ، پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ہو گی۔

NCW کی اس تحقیقاتی رپورٹ نے ملیالم فلم انڈسٹری میں خواتین کے خلاف ظلم کی گہری جڑوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان سفارشات پر عمل کیا جائے اور خواتین آرٹسٹ کو عزت اور وقار کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

اس سال، 77 ویں کانز فلم فیسٹیول میں، پائل کپاڈیہ کی ہندی ملیالم فلم آل وی امیجن ایز لائٹ نے نہ صرف مرکزی مقابلے کے حصے میں جگہ بنائی بلکہ گراں پری جیت کر تاریخ بھی رقم کی، جو پالما ڈور کے بعد دوسرا اہم ترین فلم ایوارڈ ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد اداکار صدیقی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ہیما کمیٹی کی رپورٹ نے ملیالم سنیما انڈسٹری میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے استحصال کے واقعات کو بے نقاب کیا ہے۔ کئی اداکاروں اور ہدایت کاروں کے خلاف جنسی ہراسانی اور استحصال کے الزامات سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے 25 اگست کو ان معاملات کی تحقیقات کے لیے سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین شکایت ایک نوجوان اداکار نے درج کرائی ہے۔ اس نے الزام لگایا ہے کہ رنجیت نے 2012 میں اس کا جنسی استحصال کیا تھا۔ کیرالہ پولیس کے مطابق ایک اداکار کی شکایت کی بنیاد پر فلم پروڈیوسر رنجیت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

نرمل بینی برسوں سے ملیالم فلم انڈسٹری میں سرگرم تھے ۔ تاہم ان کے انتقال کی خبر نے ان کے مداحوں کو افسردہ کر دیا ہے۔ نرمل بینی نے جمعہ 23 اگست کی صبح آخری سانس لی۔ جس سے فلم انڈسٹری میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

جسٹس ہیما پینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملیالم فلم انڈسٹری میں خواتین جنسی استحصال جھیل رہی ہے۔