Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra

فی الحال پولیس نے پورے علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے پتھراؤ میں زخمی ہونے والے لوگوں کو علاج کے لیے ضلع اسپتال میں داخل کرایا ہے۔ شہر میں اس وقت پرامن ماحول ہے۔ حالانکہ، پولیس انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ کارروائی کے دوران پولیس سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران انسٹاگرام پر ملزم لڑکی کی ایک قابل اعتراض پوسٹ سامنے آئی،

مہاراشٹر سائبر نے کچھ حملوں کو روکا ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوستان کا اہم انفراسٹرکچر جیسے ریلوے، بینکنگ اور سرکاری پورٹلز خطرے میں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی جگہوں پر سائبر سیکورٹی کمزور ہے، جس کی وجہ سے حملے کامیاب ہوئے، ہندوستانی ٹیلی کام کا ٹیرا بائٹ ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہو گیا ہے، جس سے ملک کے سیکورٹی سسٹم پر بڑا سوال اٹھ رہا ہے۔

یہ سہ روزہ دورہ بھارت کی ڈیجیٹل، لاجسٹک، اور شہری ترقیاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے وزیر اعظم مودی کے عزم کی علامت ہے۔ اس دوران شروع کیے گئے اقدامات نہ صرف علاقائی ترقی کو مہمیز دیں گے بلکہ بھارت کی مجموعی ترقی کے سفر کو بھی تیز رفتار بنائیں گے — تفریحی صنعت سے لے کر شہری منصوبہ بندی تک۔

وزیر اعظم ممبئی میں ورلڈ آڈیو ویژوئل اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ (ویوز) کا افتتاح کریں گے، کیرالہ میں ویزنجم بین الاقوامی گہرے پانی والی کثیر مقصدی بندرگاہ کو قوم کے نام وقف کریں گے، امراوتی میں 58,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ اسے بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔

ایس پی ایم ایل اے نے پولس کمشنر سے کہا کہ ہم ان تمام مسائل کو لے کر یہاں آئے ہیں۔ آپ کو سی ایم صاحب سے بات کرنی چاہیے۔ سی ایم فڑنویس کو فوری طور پر ایک بیان جاری کرنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ مسلمانوں کو ہراساں کرنا بند کیا جانا چاہئے۔

باندرہ مال میں آگ لگنے کے بعد موقع پر پہنچے این سی پی لیڈر ذیشان صدیقی نے کہا کہ ہم صبح 4 بجے سے یہاں موجود ہیں، میں واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آگ فائر بریگیڈ کی لاپرواہی کی وجہ سے پھیلی ہے

ریاستی حکومت کا کہنا ہے ہندو-سندھی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو ہندوستان میں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

یہ اقدام مہاراشٹر حکومت کی زبان سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ذریعے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے زور دینے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے ہندی کی مخالفت اور انگریزی کی بڑھتی ہوئی ترجیح پر حیرت کا اظہار کیا۔