Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra News

مہاراشٹر کی سیاست کے لیے کل کا دن انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔

مہاراشٹر میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مجموعی طور پر 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کرائی گئی، جس میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مکر سنکرانتی کے موقع پر اڈانی الیکٹرسٹی نے بدھ کے روز ممبئی کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کے قریب پتنگ نہ اُڑائیں، کیونکہ یہ عمل انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی تہوار کو محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں ایک غیر متوقع اور حیران کن سیاسی منظر سامنے آیا ہے، جہاں روایتی طور پر ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتیں بی جے پی اور کانگریس بعض مقامات پر ایک ساتھ انتخابی میدان میں نظر آئیں۔ اس کے ساتھ ہی اکوٹ میں بی جے پی کو اے آئی ایم آئی ایم کی حمایت ملنے کی خبریں سامنے آئیں، جس سے سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی۔

سریش کلماڈی پونے سے سابق رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے تھے اور مرکزی حکومت میں ریلوے کی وزارت میں مملکتی وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور اسی طویل بیماری کے دوران ان کا انتقال ہوا۔

ذرائع کے مطابق راکھی جادھو کو بی جے پی گھاٹ کوپر سے ٹکٹ دے سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس وارڈ سے بھی انہیں ٹکٹ دیا گیا، وہاں بی جے پی کے مقامی کارکن بغاوت کر سکتے ہیں۔ اس طرح بی ایم سی انتخابات سے پہلے بی جے پی کے اس فیصلے سے پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں اس اتحاد کے اعلان کے بعد سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اس بار انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔66 ارکان پر مشتمل میونسپلٹی میں دونوں جماعتیں 50-50 کے فارمولا کے تحت انتخابات لڑیں گی۔

اس منصوبے میں ایک ارب امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے ریاست میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد کو ملازمت ملے گی، جو مہاراشٹر کی معیشت اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔

انا ہزارے نے بتایا کہ انہوں نے سات بار دیویندرفڑنویس کو خط لکھا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا سوال ہے کہ اگر یہ قانون عوام کے مفاد کا ہے تو پھر اسے نافذ کرنے میں مسلسل تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟

مہاراشٹرمیں مسلسل بارش سے مراٹھ واڑہ کے کھیت کھلیان برباد ہوگئے ہیں۔ 70 لاکھ ایکڑزمین پانی میں ڈوبی، 36 لاکھ کسن متاثر ہوئے۔ اس درمیان سدھی ونائک مندرٹرسٹ نے چیف منسٹرریلیف فنڈ میں 10 کروڑروپئے عطیہ دیا۔