Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha Speaker Om Birla

لوک سبھا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تعطل بدستور برقرار ہے اور بجٹ پر بحث شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہو رہی ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔

لوک سبھا میں کل زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کی خواتین ممبران پارلیمنٹ وزیراعظم مودی کی کرسی تک پہنچ گئیں۔ ہنگامہ آرائی کے باعث وزیراعظم اپنی تقریرنہیں کرسکے۔ اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ انہوں نے موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے کسی غیر متوقع واقعہ کے خدشے کے پیش نظر وزیراعظم کو ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام پر سابق آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دیا۔ اس پر راجناتھ سنگھ نے سوال اٹھایا۔ وہیں سونے والا نے بھی کانگریس کو گھیرا۔ بعد میں وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی اس پرسوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔

پارلیمنٹ میں نظم و ضبط اور اراکین کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کے لیے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ اجلاس 2026 سے اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے حاضری درج کرانے کا نیا اسمارٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔

لکھنؤ کے ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے AIPOC 2026 کے دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے اصلاحات پر مبنی دورِ قیادت کی ستائش کی، جہاں قانون سازی کی مؤثریت اور ڈیجیٹل تبدیلی کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔

انوراگ ٹھاکر نے کہا: ملک میں ای سگریٹ بَین ہے، کیا اسے ایوان میں اجازت دی گئی ہے؟ ٹی ایم سی کے رکن کئی دنوں سے بیٹھ کر ای سگریٹ پی رہے ہیں، اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ 

بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو یوم پیدائش کی مبارکباد دی۔ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کی حیثیت سے اوم برلا کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے ان کی طویل عمر کی دعا کی۔ وزیر  داخلہ امت شاہ نے اوم برلا کی تعریف کرتے ہوئے کہا …

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایس آئی آرسمیت مختلف مسائل پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہرتک ملتوی کرنی پڑی۔ ناراض لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ممبران پارلیمنٹ کو خبردارکیا کہ عوام نے انہیں سرکاری املاک کوتباہ کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا ہے اوراگرحالات بہترنہیں ہوئے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

جسٹس ورما نے اس پر وضاحت دی کہ ان کے پاس ایسی کوئی نقدی نہیں تھی اور یہ سب ان کو سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 مارچ کو انہیں دہلی سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہاکہ جمہوریت تب مضبوط ہو گی جب سب کو ووٹ کا حق ملے گا۔ جب یہ حق چھینا جا رہا ہو تو ہم کہاں آواز اٹھائیں؟ حکومت کو سننا چاہیے اور ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو ووٹر لسٹ کے ساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔