Bharat Express DD Free Dish

Kulgam encounter

علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے اور گُدّر جنگل کے اطراف ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی دہشت گرد کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ ایس او جی، فوج اور سی آر پی ایف موقع پر موجود ہیں اور سرچ آپریشن مکمل ہونے تک علاقے کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

28 جولائی سے "آپریشن مہادیو" (Operation Mahadev) شروع کیا گیا، جس میں لشکرِ طیبہ سے وابستہ تین دہشت گرد مارے گئے۔

28 جولائی کو سری نگر کے ہروان علاقے میں داچیگام نیشنل پارک میں ’آپریشن مہادیو‘ میں تین پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان دہشت گردوں میں لشکر طیبہ کے کمانڈر سلیمان شاہ اور اس کے دو ساتھی ابو حمزہ اور جبران بھائی شامل تھے۔ یہ تینوں دہشت گرد 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے حملے میں ملوث تھے، جس میں 26 بے گناہ لوگ مارے گئے تھے۔

جموں و کشمیر میں فوج کے جوان دہشت گردوں کے لیے موت بن چکے ہیں۔ وادی میں سرچ آپریشن، شدید فائرنگ اور دہشت گردوں کو مارا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک کے اس تصادم میں پانچ ملیٹنٹوں کو ہلاک کرنے میں سیکورٹی فورسز کامیاب ہوچکی ہے ،البتہ اس دوران دو اہلکار کے بھی زخمی ہونے کی خبر ہے۔ فی الحال انکاونٹر جاری ہے چونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ ایک یا دو مزید دہشت گرد ابھی اس علاقے میں چھپے ہوئے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں ان علاقوں میں ملی ٹینٹوں کی سرگرمی میں ۔اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہی سیکورٹی فورسز نے ڈوڈہ ضلع کے گندوہ علاقے میں ملی ٹینٹوں کو مار گرایا تھا۔

جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ جنوبی کشمیر ضلع کے موڈرگام گاؤں میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔

پولیس افسران نے بتایا کہ آج ایک مبینہ دہشت گرد مارا گیا اور اس کی پہچان ہو رہی ہے۔ منگل کو سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ تصادم میں لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد باسط ڈار سمیت دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق جنگل میں چھپے دہشت گردوں کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ہوسکتا ہے۔ خبر لکھے جانے تک دہشت گردوں کی تلاش کے لیے فوج اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری تھا۔

کشمیر کے کلگام میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جمعرات دوپہر سے ہی تصادم جاری ہے۔ اس درمیان سیکورٹی اہلکاروں کو بڑی کامیابی ملی ہے۔