Bharat Express DD Free Dish

Khaleda Zia

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیا کا 30 دسمبر 2025 کی صبح انتقال ہو گیا، جس سے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کا وژن اور سیاسی وراثت ہمیشہ زندہ رہے گی۔

خالدہ ضیاء کے آخری دیدار اور جنازے میں شرکت کے لیے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی ڈھاکہ پہنچے تھے۔ ڈھاکہ آمد کے بعد انہوں نے خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمٰن سے ملاقات کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا تعزیتی پیغام ان کے حوالے کیا۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، اس وقت خالدہ ضیاء کا جسدِ خاکی مانک میا ایونیو میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو رہا ہے۔ صبح تقریباً 11:50 بجے، بنگلہ دیش کے قومی پرچم میں لپٹی ایک فریزر وین گلشن ایونیو سے مانک میا ایونیو پہنچی۔

بی این پی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، خالدہ ضیاء کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں ہوا۔ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسی اسپتال میں ان کا علاج جاری تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم، قومی لیڈر خالدہ ضیاء کا منگل کی صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد انتقال ہو گیا

پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں دعاؤں اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بی این پی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایک بڑا اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی لیگ حکومت کے دورِ اقتدار میں جیل میں قید کے دوران خالدہ ضیا کو ’سلو پوائزننگ‘ دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد یونس نے جمعہ کی شب اپنے قانونی مشیر آصف نذرل اور خصوصی معاون منیر حیدر کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کی طبی صورتحال جاننے کے لیے ایور کیئر اسپتال بھیجا تھا۔

خالدہ ضیاء کی پارٹی نے عدالت کے فیصلے کا استقبال کیا جبکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے اس فیصلے پرمایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگ ہی حملوں کے لئے ذمہ دارلوگوں پرمقدمہ چلائیں گے۔

نومبر 2016 میں، بنگلہ دیش جننیتری پریشد کے صدر اے بی صدیقی کی طرف سے ضیاء کے خلاف مبینہ طور پر جنگی مجرموں کی حمایت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جنوری 2017 میں، صدیقی نے خالدہ ضیاء کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔

79سالہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش میں نیشنلسٹ پارٹی کی قومی صدر ہیں۔ عدالت نے انہیں 2018 میں کرپشن کیس میں مجرم قرار دیا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے ملک کی عوام سے امن قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔