Bharat Express DD Free Dish

Keir Starmer

برنہم نے کہا کہ ان کی حکومت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرے گی تاکہ ملک کے ہر علاقے کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ عوامی خدمات کو مزید مضبوط سرکاری نگرانی میں لا کر انہیں عام شہریوں کے لیے زیادہ مؤثر اور کم لاگت بنایا جائے گا۔

لیبر پارٹی کے اندر قائد کے انتخاب کے لیے ہونے والے عمل میں اینڈی برنہم واحد امیدوار تھے۔ انہیں ہاؤس آف کامنز میں لیبر پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جس کے باعث ان کا انتخاب بلا مقابلہ عمل میں آیا اور وہ آسانی سے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر منتخب ہو گئے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے 22 جون 2026 کو ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر وزیر اعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے بعد اس منصب کے مضبوط امیدوار اینڈی برنہم کو تصور کیا جا رہا ہے۔

ونسٹن چرچل نے یہاں تقریباً نو برس، مارگریٹ تھیچر نے تقریباً بارہ برس اور ٹونی بلیئر نے تقریباً ایک دہائی تک قیام کیا۔ تاہم 2016 کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ اس عرصے میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف چار برس کے دوران چار مختلف شخصیات نے اس منصب کی ذمہ داری سنبھالی۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیراسٹارمر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اگلا وزیراعظم منتخب کئے جانے تک وہ برطانیہ کے وزیراعظم بنے رہیں گے۔ لیبرپارٹی کے اندر بڑھتی کشیدگی کے درمیان پہلے ہی اس کی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ پیر کے روز عہدہ سے ہٹنے کا اعلان کردیں گے۔

برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین اور ڈنمارک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی لیڈروں نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

پچھلے مہینے اسٹارمر نے، برطانیہ کے اب تک کے سب سے بڑے تجارتی وفد کے ساتھ، پی ایم مودی کی دعوت پر ہندوستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ہندوستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ تھا جس کے دوران انہوں نے ممبئی میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے وسیع پیمانے پر بات چیت کی۔

کیمبرج شائر کانسٹیبلری نے بھی واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایک بیان میں، انہوں نے کہا، "ہمیں شام 7:39 پر اطلاع ملی کہ ٹرین میں کئی لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔