PM Modi congratulates Justice BR Gavai: پی ایم مودی نے ہندوستان کے 52 ویں چیف جسٹس جسٹس بی آر گوائی کو دی مبارکباد
سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی 24 نومبر 1960 کو امراوتی، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ وہ 16 مارچ 1985 کو قانونی پیشے میں داخل ہوئے اور ابتدائی طور پر آنجہانی راجہ ایس بھوسلے کے ساتھ کام کیا، جو سابق ایڈوکیٹ جنرل اور ہائی کورٹ کے جج تھے۔
CJI Sanjiv Khanna in Farewell Speech: ’ایک وقت بہت پُرچیلنجزتھا، لیکن آج میں بہت خوش ہوں…‘، الوداعی تقریر میں جذباتی ہوگئے چیف جسٹس
اپنی الوداعی تقریب میں جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ میں نے گزشتہ 50 سالوں میں کئی الوداعی تقاریب میں حصہ لیا، لیکن آج میں بہت خوش ہوں۔ ایک وقت کافی چیلنج رہا، لیکن آج میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے طورپر ریٹائرہونے کا فخرحاصل کیا۔ یہ حقیقت میں ایک خواب پورا ہونے جیسا ہے۔
Justice Sanjiv Khanna To Take Oath Today As 51st Chief Justice Of India: جسٹس سنجیو کھنہ ملک کے 51 ویں چیف جسٹس کے طور پر لیں گے راشٹرپتی بھون میں اپنے عہدے کا حلف
جسٹس کھنہ اتوار کو ریٹائر ہونے والے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی جگہ لیں گے اور ان کی میعاد 13 مئی 2025 تک ہوگی۔
Justice Sanjiv Khanna to be next Chief Justice of India: ہندوستان کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے جسٹس سنجیو کھنہ، 11 نومبر 2024 سے سنبھالیں گے عہدہ
جسٹس کھنہ ملک کے 51 ویں چیف جسٹس ہوں گے اور ان کی مدت ملازمت تقریباً چھ ماہ ہوگی۔ وہ سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین اور نیشنل جوڈیشل اکیڈمی، بھوپال کی گورننگ کونسل کے رکن ہیں۔
Sanjiv Khanna next CJI of Supreme court: ملک کے نئے چیف جسٹس ہوں گے سنجیو کھنہ،لیکن صرف 6 ماہ کیلئے بنیں گے چیف جسٹس آف انڈیا
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 64 سالہ جسٹس سنجیو کھنہ کی بطور سی جی آئی مدت کار صرف 6 ماہ ہوگی۔اور جسٹس کھنہ 13 مئی 2025 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے 65 فیصلے دے چکے ہیں۔ اپنے دور میں وہ 275 بنچوں کا حصہ رہے ہیں۔
Jammu and Kashmir: سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں 5 ایم ایل اے کی نامزدگی کے خلاف درخواست پر کہا،’ہائی کورٹ جاؤ’
عرضی گزار رویندر کمار شرما کی طرف سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی پیش ہوئے۔ جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ براہ راست سماعت نہیں کرے گا۔ پہلے اسے ہائی کورٹ میں سنا جائے۔





