Bharat Express DD Free Dish

Jharkhand News

 طلبہ وفد کے ایک رکن نے اس سے قبل وزیراعلیٰ ہیمنت سورین پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وزیراعلیٰ ان کے مطالبات پورے کریں گے۔ ایک اور رکن نے اے این آئی سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حکومت ان کی بات سنے گی، تاہم اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو پیر کے لیے طلبہ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔

جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانی تنازعہ سے متعلق جھارکھنڈ حکومت اورطلبا کے نمائندوں کے درمیان اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت ہوئی، لیکن اہم مطالبات پرکوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

واقعے کے فوراً بعد نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر سیاہی سے داغ دار اپنی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ اس سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پولیس کی لاٹھی چارج اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حرکتوں سے نہ تو ان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔

رانچی میں جاری جے پی ایس سی- جے ایس ایس سی طلبہ تحریک پر مہندر سنگھ دھونی کی خاموشی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ جانیے، اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔

جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے خلاف رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ صرف وزیر اعلیٰ سے اور میڈیا کی موجودگی میں ہی بات چیت کریں گے۔

جھارکھنڈ سی آئی ڈی نے جے پی ایس سی کی 14ویں پی ٹی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے معاملے میں ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے اکاؤنٹنٹ رکشک سنگھ کو لکھنؤ سے گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے امتحان سے متعلق اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خود ہی امتحان دیا اور پریلیمینری امتحان کامیاب بھی کر لیا۔ اس معاملے میں اب تک مجموعی طور پر 20 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رانچی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’میں نے جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات کی ہے۔ سی جے پی جھارکھنڈ کے تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘‘

جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ کے ٹاٹی جھریا بلاک میں واقع پرٹنگا ڈاک خانہ آج بھی آزادی کے 78 سال بعد مٹی کے ایک کچے مکان سے چل رہا ہے۔ بارش کے موسم میں اہم سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ بھیگنے کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ مقامی دیہی باشندے جدید ڈیجیٹل سہولیات اور ایک مستقل پکے ڈاک خانے کی عمارت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ سے بھی ایک ایسی ہی حوصلہ افزا مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک نوجوان نے معمولی شروعات سے بڑا کاروبار قائم کر لیا۔ ہزاری باغ کے پکرار گاؤں کے رہنے والے دیپک کمار نے سال 2018 میں مدرا یوجنا کے تحت پانچ لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک چھوٹی سی دکان تھی اور وسائل کی کمی کے باعث کاروبار محدود تھا۔ تاہم آج وہ شہر میں کئی کامیاب دکانوں کے مالک بن چکے ہیں۔

جھارکھنڈ کے ضلع بوکارو میں 18 سالہ لڑکی کے اغوا اور قتل کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 داروغہ سمیت کل 28 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ یہ قدم عدالت عالیہ کی سختی کے بعد اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف معاملے کی ازسرنو جانچ ہوئی بلکہ مقتولہ کی لاش بھی برآمد کر لی گئی اور مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔