Urdu Conclave 2026

Jauhar University

ضلع انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پرفی الحال عبوری روک لگا دی گئی ہے۔ مراد آباد منڈل کے کمشنرنے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) رام پورکے حکم پرعبوری پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد فی الحال یونیورسٹی کے خلاف بلڈوزرکارروائی نہیں ہوگی۔

جماعت اسلامی ہند نے میمورنڈم کے ذریعے جو اہم مطالبات پیش کیے ہیں ۔ان میں حکومت سے انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ شامل ہے۔ ‎جماعت اسلامی ہند نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت نے کہا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے، اگر انتظامیہ اپنے انہدامی فیصلے پر عمل کرتی ہے تو یہ طلبہ برادری کے لیے سنگین نا انصافی ہوگی۔

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے ر نے کہا کہ اگر حکومت کو اعظم خان سے سیاسی اختلافات ہیں تو یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے بجائے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور ادارے کو چلا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے

بدھ کے روز رام پور ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید گرما گیا۔

سال 2022 میں اعظم خان، ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان اور دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے رام پور ضلع کے نگر پالیکا پریشد کے ذریعہ خریدی گئی سڑک صاف کرنے کی مشین چوری کر لی تھی۔ اس کے بعد یہ مشین رام پور میں واقع خان کی جوہر یونیورسٹی سے برآمد ہوئی تھی۔

آزاد سماج پارٹی کے ایم پی چندر شیکھر نے وزارت تعلیم کے گرانٹ کے مطالبات پر بحث کے دوران یوپی اور راجستھان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینوں کی بحالی کا مطالبہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ  کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ سکولوں میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم بھی دی جائے۔

دراصل مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ میں مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ نے یونیورسٹی کو دی گئی زمین کی لیز کو منسوخ کرنے کے یوپی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے یوگی حکومت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔ ایسے میں مدرسہ عالیہ کو دوبارہ قائم کیا جائے۔