Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

نئی ای وی ایم کے ڈیمو کے لئے الیکشن کمیشن نے بی جے پی، کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس سمیت کئی سیاسی جماعتوں کو دعوت نامہ بھیجا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کے لئے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پیر کے روز ہونے والے اس پروگرام میں جموں وکشمیر سے کون کون سی جماعتیں شامل ہوتی ہیں۔

Amit Shah Jammu-Kashmir: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ راجوری حادثہ کی جانچ این آئی اے کر رہی ہے۔ ہم جموں وکشمیر کے تحفظ کے لئے پابند عہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجوری کے متاثرین سے میری بات چیت ہوئی ہے۔

Three Soldiers killed: معمول کے مطابق آپریشن ٹاسک کے دوران ایک جے سی او اور دو او آر کی ایک ٹیم گہری کھائی میں پھسل گئی۔ یہ ٹریک برف سے ڈھک گئی تھی۔

پنجاب اور جموں و کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارت جوڑو یاترا کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ یاترا کے پیش نظر ایجنسیوں نے پنجاب اور جموں و کشمیر پولیس سے رابطہ کیا ہے

Case on Shehla Rashid: نیوز ایجنسی اے این آئی نے فوج کے حوالے سے بتایا تھا کہ ہندوستانی فوج نے شہلا راشد شورا کے ذریعہ عائد کئے گئے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے خارج کردیا تھا۔ فوج نے کہا تھا کہ اس طرح کی غیر تصدیق شدہ اور فرضی خبریں سماج دشمن عناصر اورتنظیموں کے ذریعہ لوگوں کو اکسانے کے لئے پھیلائی جاتی ہیں۔

پونچھ ضلع میں سرچ آپریشن کے دوران فوج نے کچھ مشتبہ سرگرمیاں دیکھی تھیں۔ جس کے بعد فوج نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ کی

ذرائع نے بتایا کہ اب تک جموں کو محفوظ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ سیاح، مقامی شہری اور کشمیری پنڈت یہاں مکمل طور پر محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔ لیکن، اب اس سمت میں دہشت گردوں کے رویے سے سیکورٹی فورسز کی تشویش بڑھ گئی ہے۔

Jammu Kashmir News: جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ بات چیت اور مصالحت ہی علاقے میں مستقل امن وامان کا واحد طریقہ ہے۔

Jammu and Kashmir: سال 1980 سے 2020 تک کانگریس اور اقتدار کے اعلیٰ مقام پر فائز رہے غلام نبی آزاد گزشتہ تین ماہ سے وادی میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد غلام نبی آزاد کے بی جے پی کے ساتھ جانے کی بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ تاہم اب ایک بار پھر کانگریس میں واپسی کی بات سامنے آنے لگی ہے۔

جموں وکشمیرمیں ٹارگیٹ کلنگ کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے پونچھ اور راجوری ضلع میں سی آرپی ایف کی 18 کمپنیاں تعینات کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جموں وکشمیر میں فوج کی تعینات کے اس فیصلے پر پی ڈی پی لیڈر اور جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سخت ناراض ہوگئی ہیں۔