Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami

لندن میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد بی این پی لیڈر  طارق رحمان نے انتخابی کامیابی کے ساتھ بنگلہ دیش کی سیاست میں واپسی کی ہے۔ گرنیڈ حملے سے لے کر عمر قید تک کے الزامات اور پھر بریت کے مراحل سے گزرنے والے رحمان اب تنازعات کے سائے میں وزارتِ عظمیٰ کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ان انتخابات میں شیخ حسینہ کی جماعت میدان سے باہر ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی  کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ تقریباً 12 کروڑ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

کانفرنس میں کلیدی خطبہ جنوبی نیوہیمپشائریونیورسٹی اورسینٹ لیویونیورسٹی میں انڈیا فیکلٹی کی سپروائزرڈاکٹرسنگیتا سکسینہ نے پیش کیا۔ انہوں نے بہار اوربنگال کی مستند تاریخی دستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم خواتین کی ان خدمات کا واضح نقشہ پیش کیا، جوانہوں نے آزادی ہند کی جدوجہد، تعلیمی شعبے، سماجی اصلاحات، ادب اورتجارت کے میدانوں میں انجام دیں ہیں۔

کانفرنس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اوردانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سوامی سشیل گوسوامی مہاراج ، سوامی سروالوکا نند ،فادر ناربرٹ ہرمین، ربی ازاکیل اساک مالیکر، مرزبان ناریمن زائوالا اورسسٹر بے کے حسین نے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے حالیہ دنوں تلنگانہ میں ہونے والے فیکٹری کے ہولناک دھماکے ، پوری میں رتھ یاترا کے دوران افسوسناک بھگدڑ اور احمدآباد میں المناک فضائی حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔

پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، لیکن جس طرح سے ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں ہے، یہ ملک کے لئے اورہماری جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے، خاص طور پر موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کے طور پر۔پارٹی نے واضح کیا کہ وہ انتخابات میں منصفانہ اور شفاف عمل کی توقع رکھتی ہے۔

نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی مناب زمین سے بات کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا، 'ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کو اپنی مرضی سے نہیں بدلا جا سکتا۔ یہ ایسی چیز ہے، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔