Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

غزہ میں موجود فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 256 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جن میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔ 1788 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں ان زخمیوں میں 121 بچے بھی شامل  ہیں۔

اسرائیلی رہنما نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا کہ "ہم اس یوم سیاہ کا زبردست انتقام لیں گے۔" "ہم ان تمام نوجوانوں کا بدلہ لیں گے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ ہم حماس کے تمام ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ "اسرائیل کو اپنے اور اپنے لوگوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ امریکہ اس جنگی صورتحال میں اسرائیل کے خلاف فائدہ اٹھانے کی سوچ رکھنے والے کسی بھی فریق کو خبردار کرتا ہے۔"

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ہم نے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے جبر و ستم ہو رہا ہے، فلسطینیوں کا مسئلہ عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے، چاہتے ہیں فلسطینی عوام آزاد ریاست کے طور پر قائم ہو اور القدس فلسطین کا دارالخلافہ ہونا چاہیے۔

محمود عباس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ انہوں نے ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کی بھی درخواست کی جس میں مشرق وسطیٰ میں امن کے حصول سے متعلق تمام ممالک شرکت کریں گے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ایک پر امید لہجے میں کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جلد ہی معاہدہ ہو جائے گا۔ایلی کوہن نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو مزید بتایا کہ "خرابیوں کو پر کیا جا سکتا ہے۔میرے خیال میں یقینی طور پر اس بات کا امکان ہے کہ، 2024 کی پہلی سہ ماہی میں، چار یا پانچ ماہ بعد، ہم اس مقام پر پہنچ سکیں گے۔

سعودی عرب نے اسرائیل سے امن سمجھوتے کی بات چیت رد کردی ہے۔ سعودی حکومت نے امریکہ سے کہا ہے کہ جب تک فلسطین کا معاملہ حل نہیں ہوگا ہم کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے کی امریکہ کی کوششوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

سعودی عرب نے ہفتے کے روز فلسطینی علاقوں کے لیے ایک غیر مقیم سفیرنامزد کیا ہے۔ وہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے لیے قونصل جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔حالانکہ یوروشیلم میں ان کے قیام کیلئے جگہ دینے سے اسرائیل نے انکار کردیا ہے۔

اسرائیل کے لیے امریکی فوجی مدد کا استعمال مقبوضہ علاقوں کے کچھ حصوں کو ضم کرنے، اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں سہولت فراہم کرنے اور بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کی حوصلہ افزائی کرنےکیلئے کیاجارہا ہے۔

ہرزوگ نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ وہ اسرائیل اور مملکت سعودی عرب کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے ،جو خطے اور مسلم دنیا میں ایک سرکردہ ملک ہے۔ ہم اس لمحہ کے آنے کے لیے دعا کرتے ہیں۔