Bharat Express DD Free Dish

Israel Army

اسرائیل نے تل ابیب پر حوثی ڈرون حملے کے جواب میں یمن پر حملہ کیا ہے۔ حوثی سے منسلک المسیرہ ٹی وی نے کہا کہ ہفتہ کو ہوئے اس حملے میں حدیدہ میں تیل کے ایک ڈپو اورایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس اسرائیلی ڈرون حملے میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 15 افراد شدید زخمی ہیں۔

 اسرائیل اورلبنان کی جنگجو گروپ کے درمیان لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ جنگجوگروپ نے کہا ہے کہ اس نے ایک دن پہلے اسرائیلی ہوائی حملے میں ایک سینئرکمانڈرکے قتل کا بدلہ لینے کے لئے شمالی اسرائیل میں 200 سے زیادہ راکٹ داغے اور ڈرون اڑائے۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے جاری ہیں۔ اب تک 37 ہزار سے بھی زیادہ فلسطینی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ ایک طرف 7 اکتوبرکے حماس کے حملے سے متعلق اسرائیلی کارروائی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے تو دوسری طرف ایک دوسری رپورٹ دنیا بھر میں بحث کا موضوع ہے۔ رپورٹ میں کچھ دستاویزوں کے بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ سینئر افسران کے پاس حماس کے حملے سے متعلق خفیہ جانکاری پہلے سے تھی۔

اسرائیل نے یرغمالی بچاو مہم میں اپنے چار لوگوں کو حماس کی قید سے محفوظ باہر نکالا۔ جبکہ اسرائیل کے حملے میں 210 فلسطینیوں ہلاک ہوگئے ہیں، جس میں بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بچوں سمیت کم ازکم 210 فلسطینی افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 400 سے زیادہ زخمی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’یہ بات اول روز سے واضح ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون یا نسل کشی کنونشن ( جینوسائڈ کنونشن ) جیسے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام نہیں کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج خان یونس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اسرائیل کا پیچھے ہٹنا فلسطینیوں کے لئے راحت نہیں بلکہ تشویش کی بات ہے۔ اسرائیلی افسران نے اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی واپسی اگلے پلان کا حصہ ہے، کیونکہ فوج حماس کے آخری گڑھ رفح میں جانے کی تیاری کررہی ہے۔

سینئرحکام نے برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ کو بتایا کہ حماس کی 24 بٹالین میں سے 4 کورفح میں محفوظ مقام پرفرارہونے کے بعد محفوظ ہیں، لیکن اسرائیل کا خیال ہے کہ انہیں ڈھونڈنے اور تباہ کرنے میں بہت دیرہوچکی ہے کیونکہ ٹیلی گراف کے مطابق امریکہ نے"اسرائیل سے منہ موڑلیا ہے۔"

اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ الشفا اسپتال کو حماس کنٹرول کررہی ہے اوراسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔ اہم بات ہے کہ اسرائیلی فوج نے 50 جنگجوؤں کی ہلاکت اور 180 کی گفتاری کے باوجد اپنے صرف ایک فوجی کے مرنے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے رفح سمیت غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری کرکے مزید 20 فلسطینی کا قتل کردیا ہے۔ اسرائیلی بمباری منگل کے دن بہت ابتدائی گھڑیوں میں سحری کے اوقات کے نزدیک کی گئی۔ جس میں غزہ کے وسطی حصوں اوررفح کونشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کی بمباری اور فائرنگ کے واقعات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر ڈرون حملے بھی کئے جاتے ہیں۔ تاہم آنے والے دنوں میں اسرائیلی فوج نے جس طرح سرحدی شہر رفح پر جنگی یلغار کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔