Bharat Express DD Free Dish

IPL 2025

گجرات نے 20 اوورس میں 6 وکٹ کے نقصان پر 180 رن بنائے تھے اور جیت کے لیے ضروری ہدف لکھنؤ نے 19.3 اوورس میں 4 وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

گل نے ٹاس پر اعتراف کیا کہ وہ بھی پہلے گیند بازی کرنے کو ترجیح دیتے اور انکشاف کیا کہ واشنگٹن سندر ایک بار پھر ابتدائی الیون میں اپنی جگہ بنائیں گے۔ گیل نے کہا، ’’میں بھی پہلے گیند بازی کرتا، مجھے نہیں لگتا کہ وکٹ میں زیادہ تبدیلی ہونے والی ہے، ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے، یہ ہماری خاصیت ہے، کلونت کی جگہ واشی کو شامل کیا گیا ہے۔‘‘

کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے چنئی سپرکنگس کو ان کے ہی قلعے ’چیپاک‘ میں بری طرح روندتے ہوئے درج کی آٹھ وکٹوں سے شاندار جیت۔

دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل 2025 کا پہلا میچ 13 اپریل کو کھیلا جائے گا۔ اس سے پہلے جمعہ کو یہاں آندھی طوفان آیا۔ اس دوران کھلاڑی میدان پرپریکٹس کررہے تھے۔

دہلی کیپٹلس نے رائل چیلنجرس بنگلورو کو 6 وکٹ سے ہرا دیا۔ دہلی کے لئے کے ایل راہل شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہیں کلدیپ نے بھی شاندارمظاہرہ کیا۔

ایم ایس دھونی نے 2023 سیزن کے بعد چنئی کی کپتانی چھوڑدی تھی۔ گزشتہ سیزن میں انہوں نے ہی ریتوراج گائیکواڑکوٹیم کی کمان سونپی تھی۔ دھونی کی کپتانی میں ہی ٹیم نے 2023 میں اپنا گزشتہ خطاب جیتا تھا۔ کیا دھونی ایک بارپھرچنئی سپرکنگس کی قسمت پلٹ پائیں گے؟

گجرات نے آئی پی ایل کی تاریخ میں چھٹی بار راجستھان کو دھول چٹا دی۔ گجرات نے اس میچ میں تینوں محاذ پر شاندار کارکردگی پیش کی، جس میں سائی سدرشن کی بہترین اننگ اور پرسدھ کرشنا کی خطرناک گیند بازی سب سے اہم ثابت ہوئی۔ اس جیت کے ساتھ ہی گجرات نے پوائنٹس ٹیبل میں پہلا مقام حاصل کرلیا ہے۔

کولکاتہ نائٹ رائڈرس نے 13ویں، 14ویں، 15ویں، 16ویں اور 17ویں اوور میں مسلسل 5 وکٹیں گنوا دیں۔ حالانکہ رنکو سنگھ نے کچھ شاندار اور بڑے شاٹس لگا کر ٹیم کو جیت دلانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل میں نہ کھیلنے کے حوالے سے راشد لطیف نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ہمیں بھی اس کی کمی محسوس ہوتی ہے (آئی پی ایل میں کھیلنا)، اگر ہم بھی کھیلتے تو دلچسپی اور کاروبار میں اضافہ ہوتا، اگر ہمارے کھلاڑی کھیل رہے ہوتے تو کوئی نہ کوئی براڈ کاسٹر یہاں ضرور دکھاتا۔

گزشتہ برسوں کے دوران، کوہلی اور روہت نے ہندوستان کے لیے کئی میچ جیتے ہیں اور 2013 اور 2025 کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم میں ایک ساتھ تھے، اس کے علاوہ 2024 کا مردوں کا T20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ایک ہی وقت میں اپنے T20 کیریئر کا خاتمہ کیا۔