Bharat Express DD Free Dish

Indus Water Treaty

عمر عبداللہ نے پاکستان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی کے مسئلے کی بات آتی ہے تو پاکستان کی یہ ہمدردی کہاں چلی جاتی ہے؟ ہماری ندیوں کے استعمال کے حق کے معاملے میں اس نے کشمیریوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ6  ندیوں میں سے بھارت نے پنجاب میں بہنے والی تین ندیاں اپنے پاس رکھیں، جبکہ جموں و کشمیرسے متعلق تین ندیاں پاکستان کے حصے میں چلی گئیں۔

امت شاہ نے کہا کہ میں چدمبرم جی کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ تینوں پاکستانی تھے۔ دو کے تو پاکستان کے ووٹر ہونے کی بات موجود ہے۔ ان کے پاس جو چاکلیٹ ملیں، وہ بھی پاکستان میڈ ہے۔

بتادیں کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ کو فی الحال روک دیا گیا ہے اور اس دوران ہندوستان نے جموں و کشمیر میں چار بڑے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد 1960 کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے ایران دورے کے دوران ہندوستان سے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ کشمیر، پانی، دہشت گردی اورتجارت جیسے موضوعات کو وہ حل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہبازشریف نے اپنے ناپاک ارادے بتاتے ہوئے مضحکہ خیز دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگرہندوستان جارحانہ رویہ اپناتا ہے تو پاکستان جواب دینے میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں حافظ سعید کو یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب بھارت نے 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدے کے کچھ حصوں کو معطل کر دیا تھا۔

اس تنازعہ نے سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کی، جہاں کچھ صارفین نے عمر عبداللہ کے موقف کو ہندوستان کے مفادات کی حمایت قرار دیا، جبکہ دوسروں نے محبوبہ کے امن کی وکالت کو سراہا۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عمرعبداللہ کو تلبل نیوی گیشن بیراج کی تعمیرکی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ اشتعال انگیزبیان ہے۔

ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور معاملات مکمل طور سے دو فریقی ہوں گے۔ معطلی کو ختم کرنا ہے تو پاکستان مقبوضہ کشمیر کو خالی کردے۔

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر انڈس واٹر ٹریٹی کا تنازع حل نہ ہوا تو بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو "جنگی عمل" قرار دیا۔