Bharat Express DD Free Dish

Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدے پر پابندی سے پاکستان برہم، پاک فوج کے جنرل نے دی دھمکی ، کہا- بھارت کی سانسیں روک دیں گے، اگر…

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں حافظ سعید کو یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب بھارت نے 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدے کے کچھ حصوں کو معطل کر دیا تھا۔

پاکستانی فوج نے ایک بار پھر واضح  طور پر ظاہر کردیا ہے  کہ وہ دہشت گردوں کی زبان بولتی ہے۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے لشکر طیبہ کے دہشت گرد حافظ سعید کی طرح سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے خلاف زہر اگل دیا ہے۔

جنرل احمد شریف چودھری نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کے بارے میں خبردار کیا کہ ’’اگر تم نے ہمارا پانی روکا تو ہم تمہاری سانسیں روک دیں گے‘‘۔ یہ انداز اور الفاظ بالکل ایسے ہی ہیں جو حال ہی میں حافظ سعید نے کہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سندھ طاس معاہدے پر  کررہے تھےتقریر

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک معطل کرنے کے فیصلے پر بول رہے تھے۔ درحقیقت بھارت پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا ،جب تک اسلام آباد دہشت گردی کو ختم نہیں کرتا اور اپنی سرزمین سے نکلنے والے دہشت گرد گروپوں کی مدد، فنڈنگ ​​اور حمایت بند نہیں کرتا۔

حافظ سعید جیسی زبان استعمال کرنا

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مبینہ طور پر یہ تبصرہ پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں تقریر کے دوران کیا۔ ان کا بیان بالکل اسی طرح کا ہے، جو لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید نے استعمال کیا تھا۔ حافظ سعید 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ وہ بھارت اور امریکہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے لیے جانا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں حافظ سعید کو یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب بھارت نے 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدے کے کچھ حصوں کو معطل کر دیا تھا۔اس معاہدے پر پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے ایک دن بعد دستخط کیے گئے تھے ،جس میں 26 افراد بے دردی سے مارے گئے تھے۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا

1960 میں دستخط کیے گئے اور عالمی بینک کی ثالثی میں یہ معاہدہ دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے پانیوں کی تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  نئی دہلی نے بارہا کہا ہے کہ “خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے؛ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے،” سرحد پار دہشت گردی کے لیے پاکستان کی مبینہ حمایت پر سخت موقف کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ معطلی اسلام آباد کے خلاف اٹھائے گئے کئی انتقامی اقدامات کا حصہ تھی، جس میں 7 مئی کو “آپریشن سندھور” بھی شامل تھا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی بات چیت میں صرف جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر مقبوضہ ہندوستانی علاقے کو خالی کرانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مضبوطی سے کہا کہ “دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے،” اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہندوستان صرف ان مطلوب دہشت گردوں کی حوالگی پر بات کرنے کے لیے تیار ہے جن کی فہرست پہلے ہی اسلام آباد کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں- الٹی گنتی شروع! بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے، محمد یونس نے کہا- یرغمال لگ رہا ہوں، استعفیٰ دوں گا۔

کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے جیسوال نے اس بات پر زور دیا کہ “کوئی بھی دو طرفہ بات چیت صرف پاکستان کی طرف سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیے گئے ہندوستانی علاقے کو خالی کرانے پر ہو گی۔” معطل شدہ انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) پر جیسوال نے تصدیق کی کہ یہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت روکنے کے لیے قابل اعتماد اور ناقابل واپسی اقدامات نہیں کرتا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا اعادہ کیا: “پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے،” پانی کے تاریخی معاہدے پر ہندوستان کے موقف کے سخت ہونے کا اشارہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read