Bharat Express DD Free Dish

Indo-Pacific

وزیراعظم مودی 10 جولائی کو میلبورن میں منعقد ہونے والے تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں سائبر سکیورٹی، سپلائی چین کی مضبوطی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ بھارت کی ثقافت اور وزیراعظم مودی کی گرمجوش مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ قائم ہونے والے باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہند-جاپان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آتم نربھر بھارت، محفوظ بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو مضبوط بنانے میں یہ جہاز اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون، رابطے اور ترقی کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاعی طاقت ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان 26 مئی کو کواڈ ممالک ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس میں انڈو پیسیفک کی بدلتی سکیورٹی صورتحال اور مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سمیت کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔