Bharat Express DD Free Dish

Indian Muslims

دو دن جاری رہنے والے اس علمی اجتماع میں ملک کی متعدد جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں سے آئے ہوئے ماہرین نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی، معاشی محرومی، خواتین کی تعلیم، مدارس کی عصری ضروریات، اسلامی مالیات

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر کے فاؤنڈر ٹرسٹی اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کو ملک کے ممتاز دانشوروں نے نشان امتیاز اور شال اوڑھا کر پیش کیا خراج تحسین۔ کانگریس پارٹی کوآبادی کے تناسب سے مناسب نمائندگی دینے کاوعدہ بھی دوہرایا۔

شعبہ علماء و مساجد ، جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام آج  ’کل ہند پانچ روزہ اجتماع برائے علماء و فارغین مدارس‘ (جمعرات تا پیر) کا آغاز جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں ہوا۔ اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے  بڑی تعداد میں آئے ہوئے مختلف مکاتب فکر کےعلماء کرام و فارغین …

کالکی دھام کے چیف پجاری آچاریہ پرمود کرشنم اورباگیشور ھام کے پنڈت دھیریندرشاستری نے ملاقات کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراس ملاقات کی تصویرپوسٹ کرتے ہوئے آچاریہ پرمود کرشنم نے لکھا، "سناتن کے سمندرمیں جذبات کا سیلاب، ایک شاندار، مافوق الفطرت اورناقابل فراموش تصویر۔ سچائی، ابدی، ہمیشہ کے لیے۔"

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

مہاراشٹر کے پونے میں شنیوارواڑہ میں نماز ادا کرنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تین خواتین کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

سنبھل مسجد تنازعہ اور’آئی لومحمد‘ مہم پرسماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ مسلمان ہندوستان کے وفادار ہیں، کیونکہ اسلام ملک سے محبت سکھاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سچے مسلمان ملک اور مذہب دونوں کا احترام کرتے ہیں۔

آئی ایم سی آر کی میٹنگ میں مسلمانوں کے گوناگوں مسائل، ان کے حل کے لئے تدبیر،مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک، ملک میں دلتوں، کمزور طبقوں کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک اور بہار میں بڑی تعداد میں ووٹ کاٹے جانے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

معروف دانشور، ماہرتعلیم اورسیاست داں کلیم الحفیظ نے پاکستان کے خلاف ہندوستانی حکومت کی طرف سے کی گئی مختلف طرح کی کارروائی پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ٹھیک ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ابھی کچھ اثرنہیں ہوگا۔ پاکستان کواسی کی جواب میں آپ کو جواب دینا ہوگا۔

مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کرلوگوں کومارا توکیا ہندوستان کے مسلمان ان کی مدد کے لئے کھڑے نہیں ہوئے؟ پھرمسلمانوں کی ایسی شبیہ کیوں بنائی جا رہی ہے۔