Bharat Express DD Free Dish

Indian economy

انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ جغرافیائی و اقتصادی حالات مشکل ضرور ہیں، لیکن اس کے باوجود بھارت کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ دنیا کا مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنے۔‘‘

ہندوستان بدستور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس کی شرح نمو تقریباً 6.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

کارپوریٹ انڈیا نے 2024-2025 میں نئے جوش کے آثار دکھائے، جس میں درج نجی غیر مالیاتی کمپنیوں نے فروخت میں 7.2فیصد کی ترقی کی اطلاع دی،

رپورٹ میں زراعت کے شعبے میں بہتری کو بھی نوٹ کیا گیا، اس شعبے میں ایک سازگار مانسون کی وجہ سے بہتری آئی اور اناج کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔

ہندوستان نے اس سے پہلے 2024 میں 109 ویں پوزیشن، 2023 میں 112 ویں پوزیشن، 2022 میں 121 ویں پوزیشن، 2021 میں 120 ویں پوزیشن، 2020 میں 117 ویں پوزیشن، 2019 میں 115 ویں پوزیشن، 2019 میں 112 ویں پوزیشن اور 120 میں 121 ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

کارپینٹر نے بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور کاروبار دوست پالیسیوں کو معیشت کی طویل مدتی ترقی کے لیے کلیدی عناصر قرار دیا۔

نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین سمن بیری نے کہا ہے کہ پرچیزنگ پاور پیریٹی (پی پی پی) کی شرائط میں ہندوستانی معیشت کا حجم 15 ٹریلین ڈالر ہے۔

یہ بھارت کی پہلی سیمی آٹومیٹڈ بندرگاہ ہے جو ریموٹ کنٹرول کوئے کرینز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سے لیس ہے، جو جہازوں کے آمد و رفت کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرے گی۔

نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرامنیم نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی معیشت اگلے تین سالوں میں جرمنی اور جاپان سے بھی آگے بڑھ جائے گی اور 2047 تک دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بھی بن سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مضبوط عوامی اخراجات اور جاری مالیاتی نرمی کی وجہ سے 2025 میں ہندوستان میں 6.5 فیصد کی شرح نمو متوقع ہے۔