Bharat Express DD Free Dish

Indian economy

رپورٹ کے مطابق بھارت 2028 تک جرمنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے حساب سے بھی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق امریکہ کی جانب سے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد، بھارت کو Make in India 2.0 کو تیز کرنا، سپلائی چین مضبوط کرنا اور برآمدی منڈیوں کی تنوع پیدا کرنا چاہیے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی GDP 6.8 سے 7 فیصد کے درمیان بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ GVA نمو 6.5 فیصد متوقع ہے۔

وزیر موصوف نے ایوان کو بتایا کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے، وزارت بجلی نے کم از کم 97,000 میگاواٹ اضافی کوئلہ اور لگنائٹ پر مبنی تھرمل صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ملک میں جون 2025 تک بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 485 گیگاواٹ ہے۔

سی اے آئی ٹی نے تمام تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر ’’یہاں صرف ہندوستانی سامان فروخت ہوتا ہے‘‘ کے بینرز نمایاں طور پر لگائیں اور صارفین کو سودیشی مصنوعات اپنانے کی ترغیب دیں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں عدم استحکام ہے، ہر ملک اپنے مفاد پر توجہ دے رہا ہے، ایسے میں ہندوستان کو بھی اپنے معاشی مفادات کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔‘‘

ہائی ٹیک برآمدات، جیسے برقی مشینری اور اسلحہ، 2014 کے بعد سے سالانہ 10.6 فیصد شرح نمو کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ یہ تجارتی اعداد و شمار نہ صرف موجودہ عالمی اقتصادی حالات کے بیچ ہندوستان کی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ملک کی تجارتی سمت میں استحکام کی امید بھی جتاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ جغرافیائی و اقتصادی حالات مشکل ضرور ہیں، لیکن اس کے باوجود بھارت کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ دنیا کا مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنے۔‘‘

ہندوستان بدستور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس کی شرح نمو تقریباً 6.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

کارپوریٹ انڈیا نے 2024-2025 میں نئے جوش کے آثار دکھائے، جس میں درج نجی غیر مالیاتی کمپنیوں نے فروخت میں 7.2فیصد کی ترقی کی اطلاع دی،

رپورٹ میں زراعت کے شعبے میں بہتری کو بھی نوٹ کیا گیا، اس شعبے میں ایک سازگار مانسون کی وجہ سے بہتری آئی اور اناج کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔