Bharat Express DD Free Dish

India

رپورٹ کے مطابق بھارت 2028 تک جرمنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے حساب سے بھی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔

مرکزی وزیر سونووال نے کہا کہ ’’وزیرِاعظم نریندر مودی جی کے وژن کے تحت بھارت کا میری ٹائم شعبہ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔‘‘

یہ نظام جدید سینسرز، AI، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی فوری شناخت، تجزیہ اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارتی پیشہ ور افراد کی مختلف ثقافتی ماحول میں ہم آہنگ ہونے کی غیر معمولی صلاحیت نے بھارت کو عالمی کیپیبیلیٹی سینٹرز (GCCs) کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں  نے کہا کہ بھارت نے افریقی ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 12 ارب ڈالر سے زائد کے رعایتی قرضے فراہم کیے ہیں، جب کہ 700 ملین ڈالر کی بلا معاوضہ امداد بھی دی گئی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان ہمیشہ امن کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ بھارت مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعہ کے جلد، مستقل اور پرامن حل کی مخلصانہ کوششوں کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

انھوں نے  مزید کہا کہ تجارت تجارتی اصولوں کے تحت ہوتی ہے اور اگر بھارتی کمپنیوں کو کسی بھی ملک سے سستا تیل ملتا ہے تو وہ ضرور وہاں سے خریدیں گی۔

پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی انجن سازی کا آغاز، وزیر دفاع نے غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، اے ایم سی اے پروگرام کے تحت مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا

وزیرِ اعظم نے 23 اگست کو نیشنل اسپیس ڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن نہ صرف چندریان کی کامیابی بلکہ بھارت کی خلائی قیادت کی علامت بن چکا ہے۔

خلائی میدان میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ پچھلے 11 برس میں 60 سے زائد اسپیس مشن مکمل کیے جا چکے ہیں اور اب بھارت گگن یان کے ذریعے انسان کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔