Foxconn set to invest $2.2 billion in India and US: بھارت اور امریکہ میں 2.2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے Foxconn کو ملی تائیوان حکومت کی منظوری
خبر رساں ایجنسی فوکس تائیوان کے مطابق وزارت اقتصادی امور (MOEA) کے تحت سرمایہ کاری کے جائزہ کے محکمے نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کمپنی Foxconnکے منصوبے کی منظوری دے دی۔
India is the center of global development: ’’بھارت ہے عالمی ترقی کا مرکز‘‘، Goldman Sachs کی کم-تھو پوسنٹ نے کہا-بھارت ہماری حکمت عملی کا مرکزی ستون
بھارت عالمی سرمایہ کاروں کی نگاہ میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ ایک جانب جہاں دنیا غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے، وہیں بھارت اپنی مضبوط مارکیٹ، ترقی پذیر اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور سرمایہ کاروں کی توجہ کی بدولت نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
India Slams OIC’s Kashmir Remarks: او آئی سی کے جموں و کشمیر سے متعلق بیانات پر ہندوستان کا شدید ردعمل، کہا-بے بنیاد، غیر ضروری اور حقائق کے برعکس بیان
ہندوستان نے تنظیم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
Pakistani Foreign Minister Bilawal Bhutto: پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے پھر الاپا جنگ کا راگ، کہا-سندھ طاس معاہدہ جاری نہیں رہا تو پھر ہوگی جنگ
واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد 1960 کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
India to Revisit Ganga Water Pact with Bangladesh: پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد اب حکومت بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا ندی کے معاہدے میں بھی کرے گی تبدیلی، معاہدے پر از سرِ نو غور کا کیا فیصلہ
گنگا آبی معاہدہ 12 دسمبر 1996 کو ہوا تھا، جس کا مقصد پانی کی تقسیم کو خشک موسم کے دوران، خصوصاً فرکّا بیراج کے اطراف میں، منصفانہ بنانا تھا۔
Manoj Jha on Pakistan’s demand for Nobel Prize for Trump: ’’پارلیمنٹ کو متفقہ طور پر کرنا چاہیے اپنے موقف کا اظہار‘‘، پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کو نوبل انعام کے مطالبے پر بولے منوج جھا
پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق نامزدگی میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع میں ’’فیصلہ کن سفارتی کردار‘‘ ادا کیا اور ’’اعلیٰ قیادت‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
A Humanitarian Perspective on Global Conflicts: جنگ نہیں، مکالمہ ہی ہے حل: عالمی تنازعات پر ایک انسانی نقطۂ نظر
گزشتہ دو سالوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی جنگوں اور تنازعات نے نہ صرف سفارتی ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے بلکہ انسانیت کے وجود پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
50th anniversary of “Emergency”: مرکز نے کی ’’ایمرجنسی‘‘ کی 50ویں برسی پر ریاستوں کو سال بھر تقریبات منعقد کرنے کی ہدایت، کہا-25 جون ’’یوم قتل آئین‘‘ کے طور پر منایا جائے
وزارت نے مزید ہدایت دی ہے کہ ریاستیں ایک نوڈل افسر بھی مقرر کریں جو وزارتِ ثقافت سے رابطہ رکھے اور ان تقریبات کا مربوط انداز میں انعقاد کرے۔
CSIS Annual Report: ’’خالصتانی شدت پسند کینیڈا کی سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘‘ کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے کیا تسلیم
رپورٹ کے مطابق ایسے گروہ اب بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا بھر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ان پر عمل درآمد کی کوششوں میں ملوث ہیں۔
India distances itself from SCO’s statement: ہندوستان نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرنے والے بیان سے خود کو الگ کیا، وزارت خارجہ نے کی وضاحت
ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ ہندوستان ایس سی او کے بیان سے خود کو الگ کرتا ہے، سوائے اس کے جب وہ خود مختاری کے خدشات کی بنیاد پر چینی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) سے متعلق منصوبوں سے متعلق مسائل پر ہو۔





