Bharat Express DD Free Dish

india russia relations

پی ایم مودی نے اس بات چیت کے بارے میں ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھاکہ میں نے اپنے دوست صدر پوتن کے ساتھ بہت اچھی اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ میں نے یوکرین پر تازہ ترین پیش رفت کو شیئر کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

بھارت اور روس نے اپنی دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گیس کے حوالے سے روس کی پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعرات کو ہی امریکہ اور بھارت کے درمیان تیل اور گیس کے حوالے سے معاہدہ طے پایا تھا۔ بھارت اپنا زیادہ تر خام تیل روس سے خریدتا ہے اور امریکہ روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔

روس کے نئے ویزا قوانین کے نافذ ہونے کے بعد ہندوستانی بغیر ویزے کے روس جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل جون میں یہ رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں کہ روس اور بھارت نے ایک دوسرے کے لیے ویزا پابندیوں کو کم کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدے پر بات چیت کی ہے۔

اس دورے کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے روس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایس400 ٹریومپھ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے باقی دو یونٹس کی سپلائی کو تیز کرے۔ انہوں نے ماسکو میں اپنے ہم منصب آندرے بیلوسوف کے ساتھ لمبی بات چیت کی۔

جے شنکر نے واضح کیا کہ ہندوستان روس یوکرین جنگ میں ثالث کے طور پر کام نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ثالثی کا کام نہیں کر رہے ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دونوں کو شفاف طریقے سے معلومات دی جائیں۔

ٹی ایم ایچ کائنیٹ ریلوے سلوشنز میں ایک بڑا اسٹیک ہولڈر ہے، جس نے 1,920 وندے بھارت سلیپر کوچ تیار کرنے اور 35 سال تک ان کی دیکھ بھال کے لیے ہندوستانی ریلوے کے ساتھ تقریباً 55,000 کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ڈونلڈ لو نے اتفاق کیا کہ بھارت سستے ہتھیاروں کے لیے روس پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے گیس خریدتا ہے اور اس رقم کو یوکرین میں لوگوں کو مارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ایرک گارسیٹی نے کہا کہ اس باہم جڑی ہوئی دنیا میں کوئی جنگ زیادہ دور نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہمیں نہ صرف امن کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرنا چاہیے کہ امن کے اصولوں پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔

روس کی راجدھانی ماسکو میں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پتن کے درمیان دوطرفہ میٹنگ ہوئی ہے۔ اس میٹنگ میں وزیراعظم مودی نے دہشت گردی کا موضوع اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ یوکرین جنگ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امن بحالی کے لئے ہندوستان ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔