Bharat Express DD Free Dish

india russia relations

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دہلی کے پالم ایئرپورٹ پر وزیراعظم نریندر مودی نے استقبال کیا۔ اس دوران دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔

روسی پوتن 23ویں بھارت-روس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے آرہے ہیں، روسی صدر کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔توقع ہے کہ صدر پوتن کا دورہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر پوتن ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ بھارت آ رہے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ امبانی کے دوست بھی بھارت آ رہے ہیں۔ ان کا ریلائنس انڈسٹریز سے گہرا تعلق ہے۔ امریکہ کی جانب سے روس نیفٹ پر عائد پابندیوں کے بعد بھارت-روس کے تیل کے کاروبار پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن تیئیسویں بھارت روس سمٹ میں شامل ہونے کے لیے آج جمعرات 4 دسمبر 2025 کو بھارت آ رہے ہیں۔ پوتن کا یہ دو روزہ دورہ ہے۔وزیر اعظم مودی اور روسی صدر پوتن کے درمیان تقریباً 25 سال پرانا رشتہ ہے۔

چار سال بعد پوتن کا بھارت کا اہم ترین دورہ ہورہا ہے۔ پوتن وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ 23ویں سالانہ بھارت۔روس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پوتن کے دورۂ بھارت سے قبل روس نے ایک اہم دفاعی معاہدے کی منظوری دی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن 4-5 دسمبر کو وزیر اعظم مودی کی دعوت پر بھارت آئیں گے۔ اس دورے میں تیل کی خریداری، دفاعی تعاون اور تجارت جیسے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو اور اسٹریٹجک معاہدوں کی امید ہے۔

بھارت اور روس کے تعلقات کی تاریخ نصف صدی سے بھی زیادہ پرانی اور اعتماد پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ دفاعی اور تجارتی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ اسی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے آئندہ ماہ بھارت کے مجوزہ دورے کی تیاریاں کریملن نے باضابطہ طور پر شروع کر دی ہیں۔

پی ایم مودی نے اس بات چیت کے بارے میں ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھاکہ میں نے اپنے دوست صدر پوتن کے ساتھ بہت اچھی اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ میں نے یوکرین پر تازہ ترین پیش رفت کو شیئر کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

بھارت اور روس نے اپنی دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گیس کے حوالے سے روس کی پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعرات کو ہی امریکہ اور بھارت کے درمیان تیل اور گیس کے حوالے سے معاہدہ طے پایا تھا۔ بھارت اپنا زیادہ تر خام تیل روس سے خریدتا ہے اور امریکہ روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔