Bharat Express DD Free Dish

India Pakistan War

سی ڈی ایس نے واضح کیا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے، اور اس کے لیے فوج کو ہر ممکنہ منظر نامے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کا مقصد نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ہے بلکہ مستقبل کے خطرات کے خلاف بھی مضبوط حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے پاکستان کودہشت گردی کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے۔ انڈس واٹرٹریٹی کی معطلی کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کواس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پردہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پاکستان نے بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) کے صرف ایک طیارے کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان نے رافیل سمیت چھ بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بتادیں کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ کو فی الحال روک دیا گیا ہے اور اس دوران ہندوستان نے جموں و کشمیر میں چار بڑے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے اور اس قابل مذمت فعل کے ذمہ داروں، اس کے ذمہ دار لوگوں، مالی معاونین اور اسپانسرز کو پکڑنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ نے کئی مواقع پر، بشمول سعودی عرب اور رامافوسا کے ساتھ ملاقاتوں میں، اس دعوے کو دہرایا۔ تاہم، بھارتی حکام نے اسے کشمیر کے تنازع کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جو بھارت کے دو طرفہ موقف کے خلاف ہے۔

پروتینی ہریش نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کو تربیت اور فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے انہیں مار گرایا لیکن پاکستان نے اس آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں کو سرکاری اعزازات سے نوازا۔

آپریشن سندور کے بعد یہ سفارتی کوششیں بھارت کے قومی اتحاد کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ وفود میں این ڈی اے اور غیر این ڈی اے جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے وفود سے ملاقات کر کے ان کی کوششوں کو سراہا۔

بھارت کے مطابق "آپریشن سندور" محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ اس کی اس نئی دفاعی حکمت عملی کا مظہر ہے جو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جوہری دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار پر مبنی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے درست کہا:"خود انحصاری اب صرف پالیسی نہیں، بلکہ قوم کا جذبہ بن چکی ہے۔بھارت کی ٹیکنالوجی، معیشت، اور دفاعی ترقی ایک ایسے مقام پر آ چکی ہے جہاں نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عالمی سلامتی میں بھی وہ کردار ادا کر سکتا ہے۔