Bharat Express DD Free Dish

Used trade deal threat to get India-Pakistan ceasefire: بھارت-پاکستان جنگ بندی کے لیے تجارت کی دھمکی کا استعمال کیا،ٹرمپ نے پھر سے کیا دعویٰ

ٹرمپ نے کئی مواقع پر، بشمول سعودی عرب اور رامافوسا کے ساتھ ملاقاتوں میں، اس دعوے کو دہرایا۔ تاہم، بھارتی حکام نے اسے کشمیر کے تنازع کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جو بھارت کے دو طرفہ موقف کے خلاف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایک بار پھر یہ  دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے حصول کے لیے تجارت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ 25 جون 2025 کو نیٹو سمٹ کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ان کے ایک فون کال سے یہ معاہدہ ممکن ہوا، جبکہ بھارت نے واضح کیا کہ اس تنازع میں امریکی کردار شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے بھارت اور پاکستان سے کہا کہ اگر وہ جنگ نہیں روکتے تو ہم ان کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے۔ٹرمپ نے اسے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے کی کامیابی قرار دیا، اوردعویٰ کیا کہ اس سے لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔

بھارت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ 7 سے 10 مئی تک آپریشن سندور کے دوران امریکی حکام کے ساتھ بات چیت ہوئی، لیکن تجارت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ بھارت نے زور دیا کہ جنگ بندی کا معاہدہ براہ راست بھارتی اور پاکستانی فوجی حکام (DGMOs) کے درمیان طے پایا۔ وہیں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کردار کی تعریف کی، لیکن بھارت نے اسے یکطرفہ دعویٰ قرار دیا۔ ٹرمپ نے 10 مئی کو ٹروتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے بھارت نے قبل از وقت اور غیر ضروری بتایا۔ بھارت کے مطابق، آپریشن سندور 22 اپریل کے پہلگام حملے کے جواب میں تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے کئی مواقع پر، بشمول سعودی عرب اور رامافوسا کے ساتھ ملاقاتوں میں، اس دعوے کو دہرایا۔ تاہم، بھارتی حکام نے اسے کشمیر کے تنازع کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جو بھارت کے دو طرفہ موقف کے خلاف ہے۔یہ تنازعہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات پر سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی تجارت پر انحصار کرتا ہے، لیکن وہ کشمیر جیسے حساس معاملات میں مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔حالانکہ اس جنگ بندی میں امریکی کردار کو ہندوستان نے مسلسل خارج کیا ہے لیکن اس کے باوجود ٹرمپ اس کا کریڈٹ لینے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں ،حالانکہ متعدد بیانات انہوں نے اس سلسلے میں ایسے دیئے ہیں جو خود متضاد ہیں ۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read