Bharat Express DD Free Dish

India-Myanmar

میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔

گزشتہ سال مرکزی حکومت نے بھارت اور میانمار کے درمیان 1610 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے اور سڑکوں کی تعمیر کو منظوری دی تھی۔ حکومت نے یہ فیصلہ منی پور میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا تھا۔

ہندوستان نے ایک اچھے پڑوسی کا فرض نبھاتے ہوئے میانمار کے لیے ہر ممکن مدد بھیجی ہے، تازہ ترین خبروں کے مطابق ہندوستان سمیت سبھی کواڈ ممالک نے 20 ملین ڈالر سے زیادہ کا تعاون پیش کیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس امداد کے حوالے سے کہا کہ ’’آپریشن برہما شروع ہو گیا ہے۔ ہندوستان سے انسانی امداد کی پہلی کھیپ میانمار کے ینگون ہوائی اڈے پر پہنچ گئی ہے۔