Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan Arrested

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ ان کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کم ہو کر محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان ہمیشہ بھارت کے حوالے سے مثبت مؤقف رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے متعدد بار بھارت سے مذاکرات کی کوشش کی اور بھارتی قیادت، خصوصاً بی جے پی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سمت میں قدم بڑھایا۔

پی ٹی آئی کے جلسے میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی بھی جلسے میں شرکت کی، جبکہ جلسے میں حماد اظہر بھی منظر عام آئے اور خطاب بھی کیا۔

دراصل ایک کے بعد ایک کرکے عمران خان کیخلاف مقدمات ختم ہو رہے ہیں جس سے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ پارٹی کے سینئر ترین رہنما چند ہفتوں میں جیل سے باہر آ سکتے ہیں لیکن سرکاری ذرائع کی سوچ اس سے مختلف ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ اس ریفرنس میں ضمانت ہونے کے باوجود عمران خان جیل میں ہی رہیں گے چونکہ ان کی سائفر کیس اور عدت کیس میں تاحال سزا معطل نہیں ہوئی۔سائفر کیس میں درخواست ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

سائیفر معاملے سمیت کئی معاملوں میں پہلے سے ہی سزا کاٹ رہے سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک اور معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس کی طرف سے دائرکی گئی عرضی کے جواب میں دہشت گردی مخالف عدالت نے 9 مئی کو جناح ہاؤس میں ہوئے توڑ پھوڑ کے الزام میں عمران خان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

گزشتہ ہفتے توشہ خانہ کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔الیکشن کمیشن نے نااہلی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس میں انہیں آئین کے آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔

Imran Khan Arrested: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ معاملے میں جب عدالت نے تین سال کی سزا سنائی، اس دوران عدالت میں عمران خان اور ان کے وکیل موجود نہیں تھے۔